تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: التكوير ١٥:٨١

١٥:٨١
فلا اقسم بالخنس ١٥
فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلْخُنَّسِ ١٥
فَلَآ
أُقۡسِمُ
بِٱلۡخُنَّسِ
١٥
أقسم الله تعالى بالنجوم المختفية أنوارها نهارًا، الجارية والمستترة في أبراجها، والليل إذا أقبل بظلامه، والصبح إذا ظهر ضياؤه، إن القرآن لَتبليغ رسول كريم -هو جبريل عليه السلام-، ذِي قوة في تنفيذ ما يؤمر به، صاحبِ مكانة رفيعة عند الله، تطيعه الملائكة، مؤتمن على الوحي الذي ينزل به.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 81:15إلى 81:16

الخنس ۔ الجوار ۔ الکنس تینوں سے مراد ستارے ہیں۔ الخنس وہ ستارے جو اپنے دورہ فلکی میں پلٹتے ہیں ، الجوار جو چلتے ہیں اور الکنس ، جو چھپتے ہیں۔ انداز بیان کے استعارات ان ستاروں کو ہر نوں کی طرح زندگی کی خصوصیات بخش دیتے ہیں ، جو پلٹتی ہیں ، دوڑتی ہیں اور اپنے غار میں گھس جاتی ہیں۔ ایک طرف سے دوسری طرف لوٹ جاتی ہیں ، یہ ستارے گویا زندہ ہر توں کی طرح دوڑتے گھومتے اور زندہ نظر آتے ہیں۔ انداز تعبیر ان ستاروں کی حرکت کو ایک حسن رفتار عطا کردیتا ہے۔ اور ان کے ظہور میں بھی جمال نظر آتا ہے۔ اور فضا میں بھی اس کا جمال ہے ۔ چھپنا بھی خوبصورت اور نمودار ہونا بھی خوبصورت۔ دوڑنا بھی اچھا اور مڑنا بھی اچھا۔ پھر الفاظ بھی خوبصورت اور ان کا تلفظ بھی پر نغمہ اور پر ترنم اور خوبصورت۔ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔