تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: عبس ١٧:٨٠

١٧:٨٠
قتل الانسان ما اكفره ١٧
قُتِلَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَآ أَكْفَرَهُۥ ١٧
قُتِلَ
ٱلۡإِنسَٰنُ
مَآ
أَكۡفَرَهُۥ
١٧
لُعِنَ الإنسان الكافر وعُذِّب، ما أشدَّ كفره بربه!! ألم ير مِن أيِّ شيء خلقه الله أول مرة؟ خلقه الله من ماء قليل -وهو المَنِيُّ- فقدَّره أطوارا، ثم بين له طريق الخير والشر، ثم أماته فجعل له مكانًا يُقبر فيه، ثم إذا شاء سبحانه أحياه، وبعثه بعد موته للحساب والجزاء. ليس الأمر كما يقول الكافر ويفعل، فلم يُؤَدِّ ما أمره الله به من الإيمان والعمل بطاعته.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

قتل الانسان (17:80) ” انسان قتل ہو “۔ کیونکہ وہ اپنے ان قابل تعجب اعمال کی وجہ سے اس بات کا مستحق ہے کہ اسے قتل کردیا جائے۔ یہ سرزنش اور طعن وتشنیع کا ایک انداز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان جو کچھ کررہا ہے وہ اس قدر برا ہے کہ اگر اس پر اسے سزائے موت دے دی جائے تو قابل تعجب نہ ہوگی۔

ما اکفرہ (17:80) ” کس قدر ناشکرا ہے “۔ وہ کفر ، انکار میں بہت شدید ہے ، اگر وہ اپنی تخلیق پر غور کرتا تو اپنے خالق کا شکرادا کرتا۔ دنیا میں تواضع اختیار کرتا اور آخرت کا خیال رکھتا۔ یہ انسان کس بات پر مست ہے۔ اپنے آپ کو بےپرواہ سمجھتا ہے ، اور ہدایت سے منہ موڑتا ہے۔ ذرا اپنی اصلیت اور آغاز وجود کے حالات پر تو غور کرے۔