تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القيامة ٢٦:٧٥

٢٦:٧٥
كلا اذا بلغت التراقي ٢٦
كَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِىَ ٢٦
كـَلَّآ
إِذَا
بَلَغَتِ
ٱلتَّرَاقِيَ
٢٦
حقًّا إذا وصلت الروح إلى أعالي الصدر، وقال بعض الحاضرين لبعض: هل مِن راق يَرْقيه ويَشْفيه مما هو فيه؟ وأيقن المحتضر أنَّ الذي نزل به هو فراق الدنيا؛ لمعاينته ملائكة الموت، واتصلت شدة آخر الدنيا بشدة أول الآخرة، إلى الله تعالى مساق العباد يوم القيامة: إما إلى الجنة وإما إلى النار.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 75:26إلى 75:28

یہ موت کا منظر ہے اور یہ نص قرآنی اسے یوں پیش کررہا ہے گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ منظر آنکھوں کے سامنے یوں آرہا ہے جس طرح مصور کے قلم سے رنگ نکلتے ہی تصویر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

کلا اذا ................ التراقی (75:26) ” ہرگز نہیں ، جب جان حلق تک پہنچ جائے “۔ جب روح حلق تک آجائے تو اس وقت انسان کی زندگی کے آخری لمحات ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں انسان پر ذہول اور مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ انسان پر شدت کی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے کہ نظریں ٹکٹی باندھ لیتی ہیں اور جس کی موت وقاع ہورہی ہوتی ہے ، اس کے ارد گرد دوست و رشتہ دار جمع ہوجاتے ہیں اور مرنے والے کو بچانے کے لئے ہر حیلہ اور ہر وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔

وقیل من راق (75:27) ” کہا جائے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا “۔ شاید بطور آخری چارہ کار یہ دم درود اور جھاڑ پھونک ہی مفیدہوجائے اور جس شخص پر موت کی حالت طاری ہے شاید یہ اس سے واپس آجائے اور آخری حالت۔