تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المعارج ١٦:٧٠

١٦:٧٠
نزاعة للشوى ١٦
نَزَّاعَةًۭ لِّلشَّوَىٰ ١٦
نَزَّاعَةٗ
لِّلشَّوَىٰ
١٦
ليس الأمر كما تتمناه- أيها الكافر- من الافتداء، إنها جهنم تتلظى نارها وتلتهب، تنزع بشدة حرها جلدة الرأس وسائر أطراف البدن، تنادي مَن أعرض عن الحق في الدنيا، وترك طاعة الله ورسوله، وجمع المال، فوضعه في خزائنه، ولم يؤدِّ حق الله فيه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 70:15إلى 70:16

کلا انھا .................... فاوعی (81) (07 : 51 تا 81) ” ہرگز نہیں ، وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی ، پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔ یہ ایک منظر ہے کہ جسے دیکھ کر انسان کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں جبکہ اس منظر سے قبل رنج والم کی وجہ سے یہ مدہوش تھا۔ کلا ، یہ نہایت سختی سے تردید اور جھڑکی کا لفظ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ باطل خواہشات ہیں کہ کوئی بیٹوں ، بیوی ، خاوند ، بھائی ، بہن اور خاندان اور روئے زمین کی جائیداد کا فدیہ دے سکے گا ، ہر گز نہیں۔

انھا لظی (07 : 61) ” وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی “۔

نزاعة للشوی (07 : 61) ” جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی “۔ چہرے اور سر کے گوشت کو ، اور پھر یہ بلا کی شکل میں ہوگی۔ زندہ چلتی ہوئی۔ اور اس خوفناکی میں وہ قصداً اضافہ کررہی ہوگی۔