تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المنافقون ٢:٦٣

٢:٦٣
اتخذوا ايمانهم جنة فصدوا عن سبيل الله انهم ساء ما كانوا يعملون ٢
ٱتَّخَذُوٓا۟ أَيْمَـٰنَهُمْ جُنَّةًۭ فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٢
ٱتَّخَذُوٓاْ
أَيۡمَٰنَهُمۡ
جُنَّةٗ
فَصَدُّواْ
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِۚ
إِنَّهُمۡ
سَآءَ
مَا
كَانُواْ
يَعۡمَلُونَ
٢
إنما جعل المنافقون أيمانهم التي أقسموها سترة ووقاية لهم من المؤاخذة والعذاب، ومنعوا أنفسهم، ومنعوا الناس عن طريق الله المستقيم، إنهم بئس ما كانوا يعملون؛ ذلك لأنهم آمنوا في الظاهر، ثم كفروا في الباطن، فختم الله على قلوبهم بسبب كفرهم، فهم لا يفهمون ما فيه صلاحهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

اتخذو ................ جنة (36 : 2) ” انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ایمان کے بارے میں جب ذرا بھی شبہ پیدا ہوتا تو وہ قسمیں اٹھانا شروع کردیتے۔ یہ اس وقت ہوتا جب معلوم ہوتا کہ انہوں نے فلاں فلاں سازش میں حصہ لیا۔ یا جب ان کی کوئی تنقید مسلمانوں تک پہنچ جاتی۔ جب بھی ان کی کوئی ایسی بات کھلتی وہ قسمیں شروع کردیتے۔ یوں وہ اپنی صفائی بیان کردیتے۔ اور اس ڈھال کے پیچھے اپنے آپ کو بچا لیتے ، تاکہ آئندہ وہ اپنی سازشیں اور خفیہ تدابیر جاری رکھ سکیں اور ان میں جو بیوقوف تھے ان کو مزید دھوکہ دے سکیں۔

فصدوا ................ اللہ (36 : 2) ” اس طرح وہ اللہ کے راستے سے رکتے اور روکتے ہیں “۔ یعنی خود اپنے نفوس کو بھی روکتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔ اور سچائی کے ساتھ یقین نہیں کرتے۔ اور اس سلسلے میں جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں۔

انھم .................... یعملون (36 : 2) ” یعنی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔ آخر جھوٹ ، فریب اور گمراہ کرنے سے بڑھ کر اور کیا برائی ہوگی۔