تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الطور ٤١:٥٢

٤١:٥٢
ام عندهم الغيب فهم يكتبون ٤١
أَمْ عِندَهُمُ ٱلْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ ٤١
أَمۡ
عِندَهُمُ
ٱلۡغَيۡبُ
فَهُمۡ
يَكۡتُبُونَ
٤١
أم عندهم علم الغيب فهم يكتبونه للناس ويخبرونهم به؟ ليس الأمر كذلك; فإنه لا يعلم الغيب في السموات والأرض إلا الله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ام عندھم ........ یکتبون (25 : 14) ” کیا ان کے پاس غیب کے حقائق ہیں کہ اس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہیں “ ان کو معلوم ہے کہ ان کے پاس غیب کا علم نہیں ہے اور نہ وہ غیب کے علم سے لکھ رہے ہیں نہ ان کو اس پر قدرت ہے کہ غیب میں وہ کوئی فیصلے لکھیں۔ یہ اللہ ہی ہے جو غیب کی کتابوں میں بندوں کی تقدیر لکھتا ہے۔

جو ذات غیب جانتی ہے وہی تدبیر امور کرسکتی ہے۔ تقدیروں کے فیصلے کرسکتی ہے۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے کیونکہ وہ غیب نہیں جانتے اور غیب کے ذخائر میں وہ کچھ بھی ثبت نہیں کرسکتے۔ اس لئے وہ آپ کے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ نہ یہ لوگ آپ کے مستقبل میں تصرف کرسکتے ہیں نہ کوئی سازش کرسکتے ہیں۔