تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الطور ٣٣:٥٢

٣٣:٥٢
ام يقولون تقوله بل لا يومنون ٣٣
أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُۥ ۚ بَل لَّا يُؤْمِنُونَ ٣٣
أَمۡ
يَقُولُونَ
تَقَوَّلَهُۥۚ
بَل
لَّا
يُؤۡمِنُونَ
٣٣
بل أيقول هؤلاء المشركون، اختلق محمد القرآن من تلقاء نفسه؟ بل هم لا يؤمنون، فلو آمنوا لم يقولوا ما قالوه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ام یقولون تقولہ (25 : 33) ” کیا یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے یہ خود گھڑ لیا ہے “ اور اس کے بعد جلد ہی اصل حقیقت بتادی جاتی ہے۔

بل لا یومنون (25 : 33) ” اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے “ ان کے دلوں کو شعور ایمان حاصل نہیں ہے۔ یہی بےشعوری ہے جو ان کے منہ سے یہ بات کہلواتی ہے اور یہ قول یہ لوگ تب ہی کہتے ہیں کہ ایمان کی نعمت سے یہ لوگ محروم ہیں۔ اگر یہ قرآن کی حقیقت کا ادراک کرلیتے تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ یہ انسان کا بنایا ہوا کلام نہیں ہے اور اس کے حامل صادق وامین ہیں۔