تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: محمد ٥:٤٧

٥:٤٧
سيهديهم ويصلح بالهم ٥
سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ ٥
سَيَهۡدِيهِمۡ
وَيُصۡلِحُ
بَالَهُمۡ
٥
فإذا لقيتم- أيها المؤمنون- الذين كفروا في ساحات الحرب فاصدقوهم القتال، واضربوا منهم الأعناق، حتى إذا أضعفتموهم بكثرة القتل، وكسرتم شوكتهم، فأحكموا قيد الأسرى: فإما أن تَمُنُّوا عليهم بفك أسرهم بغير عوض، وإما أن يفادوا أنفسهم بالمال أو غيره، وإما أن يُسْتَرَقُّوا أو يُقْتَلوا، واستمِرُّوا على ذلك حتى تنتهي الحرب. ذلك الحكم المذكور في ابتلاء المؤمنين بالكافرين ومداولة الأيام بينهم، ولو يشاء الله لانتصر للمؤمنين من الكافرين بغير قتال، ولكن جعل عقوبتهم على أيديكم، فشرع الجهاد؛ ليختبركم بهم، ولينصر بكم دينه. والذين قُتلوا في سبيل الله من المؤمنين فلن يُبْطِل الله ثواب أعمالهم، سيوفقهم أيام حياتهم في الدنيا إلى طاعته ومرضاته، ويُصْلح حالهم وأمورهم وثوابهم في الدنيا والآخرة، ويدخلهم الجنة، عرَّفهم بها ونعتها لهم، ووفقهم للقيام بما أمرهم به -ومن جملته الشهادة في سبيله-، ثم عرَّفهم إذا دخلوا الجنة منازلهم بها.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

سیھدیھم ویصلح بالھم (48 : 5) ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم (48 : 6) “ وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا ان کا حال درست کرے گا اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس سے وہ ان کو واقف کرا چکا ہے ”۔ ان کے اعمال ضائع نہ کرے گا ۔ یہ اس بات کے بالمقابل ہے جو کفار کے معاملے میں کہی گئی کہ ان کے اعمال ضائع ہوں گے۔ اس لیے کہ مومنین کے اعمال مضبوط اور اصل درخت سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ درخت ہے سچائی کا درخت۔ یہ اعمال اس حق اور سچائی سے صادر ہوتے ہیں۔ یہ اعمال حق کی حمایت میں ہوتے ہیں۔ حق کی سمت میں ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ باقی ہوتے ہیں اور دوام کی صفت رکھتے ہیں کیونکہ حق لازوال ہے۔

شہداء کی حقیقت قابل غور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے دوسری جگہ میں فیصلہ دے دیا ہے۔

ولا تقولوا لمن ۔۔۔۔۔۔ لا تشعرون “ اور جو اللہ کے راستے میں قتل ہوتے ہیں ان کو مردہ نہ کہو ، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ”۔ لیکن یہاں ان کو ایک دوسرے پہلو سے پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے جس راستے میں متاع حیات قربان کی اس راستے میں وہ مسلسل آگے ہی بڑھ رہے ہیں۔ وہ ہدایت خلوص ، صفائی اور اطاعت کی راہ ہے۔

سیھدیھم ویصلح بالھم (47 : 5) “ اللہ ان کی رہنمائی فرمائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا ”۔ وہ اپنے رب اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں ، وہ اب بھی ان کی رہنمائی کر رہا ہے۔ یعنی شہادت کے بعد بھی وہ درجات عالیہ طے کر رہے ہیں اور ان کے حالات درست کئے جا رہے ہیں اور ان کی روح زمین کی آلودگیوں سے پاک ہو رہی ہے۔ ان کو ملاء اعلیٰ میں جو مقام حاصل ہے ، اس مقام کی مناسبت سے ان کو مزید تربیت دی جارہی ہے۔ اور وہ صاف و شفاف بنائے جارہے ہیں۔ یہ ایک مسلسل زندگی ہے۔ صرف اہل زمین کی نظروں میں یہ منقطع ہوگئی ہے۔ اہل زمین شہادت کے درجات کو دیکھ نہیں پاتے اس زاویے سے اندھے ہیں ، جب کہ یہ شہداء حضرات عالم بالا میں بدستور درجات بلند کے مدارج طے کر رہے ہیں۔ ہدایت ، صفائی ، اشراق اور شفافی میں مزید انوار ربی حاصل کر رہے ہیں۔۔۔۔ اور سب سے آخر میں !