تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: ص ٩:٣٨

٩:٣٨
ام عندهم خزاين رحمة ربك العزيز الوهاب ٩
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ ٱلْعَزِيزِ ٱلْوَهَّابِ ٩
أَمۡ
عِندَهُمۡ
خَزَآئِنُ
رَحۡمَةِ
رَبِّكَ
ٱلۡعَزِيزِ
ٱلۡوَهَّابِ
٩
أم هم يملكون خزائن فضل ربك العزيز في سلطانه، الوهاب ما يشاء من رزقه وفضله لمن يشاء من خلقه؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت نمبر 9

یہ ان کو سخت تنبیہہ ہے کہ ان کی یہ باتیں بارگاہ عزت میں صریح گستاخی ہیں ۔ یہ ان معاملات میں ٹانگ اڑا رہے ہیں جن میں مداخلت کرنے کا ان کو کوئی حق نہیں ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ کسی پر فضل کرتا ہے یا کسی سے اپنے فضل کو روکتا ہے۔ وہ غالب ہے ، قدرتوں والا ہے ' کوئی شخص اس کے ارادے کے سامنے بطور رکاوٹ کھڑا نہیں رہ سکتا ۔ وہ داتا ہے ، سخی ہے اور اس کی راد وہش کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ لوگ اس بات پر چیں بجبیں ہیں کہ حضرت محمد ﷺ رسول بنادیئے گئے ہیں۔ کیا اللہ کی کرم نوازیوں کی تقسیم ان کے ہاتھ میں ہے ؟ کیا اللہ کے خزانے ان کے چارج میں ہیں ؟