تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: ص ٧٤:٣٨

٧٤:٣٨
الا ابليس استكبر وكان من الكافرين ٧٤
إِلَّآ إِبْلِيسَ ٱسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلْكَـٰفِرِينَ ٧٤
إِلَّآ
إِبۡلِيسَ
ٱسۡتَكۡبَرَ
وَكَانَ
مِنَ
ٱلۡكَٰفِرِينَ
٧٤
فسجد الملائكة كلهم أجمعون طاعة وامتثالا غير إبليس؛ فإنه لم يسجد أنَفَةً وتكبرًا، وكان من الكافرين في علم الله تعالى.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت نمبر 74

کیا ابلیس فرشتوں میں سے تھا ؟ ظاہر یہ ہے کہ نہ تھا۔ کیونکہ اگر یہ فرشتوں میں سے ہوتا تو معصیت کیسے کرتا اس لیے کہ فرشتے تو اللہ کے اوامر سے معصیت نہیں کرتے اور ان کو جو بھی حکم دیا جاتا ہے۔ اسے وہ کر گزرتے ہیں۔ آئندہ یہ بات آئے گی یہ آگ سے پیدا شدہ مخلوق ہے۔ اور یہ بات معقول ہے کہ فرشتے نور سے پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن وہ فرشتوں میں رہتا تھا۔ اور اسے بھی حکم دیا گیا تھا کہ سجدہ کرو۔ اور حکم دیتے وقت صرف فرشتوں کا تذکرہ ہوا۔ اور اس کا تذکرہ نہ ہوا یعنی ” یہ نہیں کہا اے فرشتو اور شیطان سجدہ کرو “۔ اس لیے کہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ نافرمانی کرے گا لہٰذا اسے نظر انداز کرنے کے لیے ایسا کیا گیا۔ ہمیں تب معلوم ہوا کہ شیطان کو بھی سجدے کا حکم دیا گیا تھا جب اس پر عتاب نازل ہوا۔