تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: ص ١٦:٣٨

١٦:٣٨
وقالوا ربنا عجل لنا قطنا قبل يوم الحساب ١٦
وَقَالُوا۟ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ ٱلْحِسَابِ ١٦
وَقَالُواْ
رَبَّنَا
عَجِّل
لَّنَا
قِطَّنَا
قَبۡلَ
يَوۡمِ
ٱلۡحِسَابِ
١٦
وقالوا: ربنا عجِّل لنا نصيبنا من العذاب في الدينا قبل يوم القيامة، وكان هذا استهزاءً منهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت نمبر 16

بس یہاں آکر قرآن مجید ان کے بارے میں بات ختم کردیتا ہے اور روئے سخن نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے ۔ آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ ان کی حماقتوں کی پروانہ کریں۔ یہ عذاب کا مطالبہ کرکے اللہ کے جناب میں سوء ادب کا ارتکاب کررہے ہیں۔ دراصل یہ قیامت کے قیام پر یقین ہی نہیں رکھتے ۔ اللہ کی رحمت پر ناشکری کرتے ہیں۔ آپ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ انبیائے سابقہ کے حالات پڑھیں کہ ان پر کیا کیا آزمائشیں آئیں۔ اور اسکے بعد اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوئیں۔