تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ٨٣:٣٧

٨٣:٣٧
۞ وان من شيعته لابراهيم ٨٣
۞ وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِۦ لَإِبْرَٰهِيمَ ٨٣
۞ وَإِنَّ
مِن
شِيعَتِهِۦ
لَإِبۡرَٰهِيمَ
٨٣
وإنَّ من أشياع نوح على منهاجه وملَّته نبيَّ الله إبراهيم، حين جاء ربه بقلب بريء من كل اعتقاد باطل وخُلُق ذميم، حين قال لأبيه وقومه منكرًا عليهم: ما الذي تعبدونه من دون الله؟ أتريدون آلهة مختلَقَة تعبدونها، وتتركون عبادة الله المستحق للعبادة وحده؟ فما ظنكم برب العالمين أنه فاعل بكم إذا أشركتم به وعبدتم معه غيره؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

وان من شیعتہ ۔۔۔۔۔ ظنکم برب العلمین (83 – 87)

یہ اس قصے کا آغاز ہے اور قصے کے اندر پہلا منظر ہے۔ نوح سے اب ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک آگئے۔ ان دونوں انبیاء کی دعوت ، نظریہ اور منہاج دعوت ایک ہے۔ اگرچہ دونوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے ہیں لیکن دونوں ایک ہی گروہ کے لوگ ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کا دبا ہوا نظام زندگی ایک ہے۔ اور اس زاویہ سے یہ دونوں باہم مربوط ہیں اور ان کا تعلق ایک ہی سلسلہ سے ہے جس میں وہ باہم شریک ہیں۔