تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ٥٢:٣٧

٥٢:٣٧
يقول اانك لمن المصدقين ٥٢
يَقُولُ أَءِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُصَدِّقِينَ ٥٢
يَقُولُ
أَءِنَّكَ
لَمِنَ
ٱلۡمُصَدِّقِينَ
٥٢
يقول: كيف تصدِّق بالبعث الذي هو في غاية الاستغراب؟ أإذا متنا وتمزقنا وصرنا ترابًا وعظامًا، نُبعث ونُحاسب ونُجازى بأعمالنا؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 37:50إلى 37:53

فاقبل بعضھم ۔۔۔۔۔۔۔ انا لمدینون (50-53) ”

اس جتنی کا یہ دوست وقوع قیامت اور حسان و کتاب کا منکر تھا اور وہ اس جتنی کو ملا مت کرتا تھا کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ لوگ قیامت میں دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد کہ وہ مٹی ہوجائیں اور محض ہڈیاں رہ جائیں گی ۔ یہ جتنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ محو گفتگو ہے کہ اچانک اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ ذرا تلاش تو کرے کہ اس کے دوست کا انجام کیا ہوا ہے ۔ اسے یقین ہے کہ جنت میں تو وہ ہو نہیں سکتا لازما جہنم میں ہوگا۔ وہ خود بھی تلاش کرتا ہے اور دوستوں سے بھی کہتا ہے کہ اسے تلاش کیا جائے ۔