تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ٥٠:٣٧

٥٠:٣٧
فاقبل بعضهم على بعض يتساءلون ٥٠
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ يَتَسَآءَلُونَ ٥٠
فَأَقۡبَلَ
بَعۡضُهُمۡ
عَلَىٰ
بَعۡضٖ
يَتَسَآءَلُونَ
٥٠
فأقبل بعضهم على بعض يتساءلون عن أحوالهم في الدنيا وما كانوا يعانون فيها، وما أنعم الله به عليهم في الجنة، وهذا من تمام الأنس. قال قائل من أهل الجنة: لقد كان لي في الدنيا صاحب ملازم لي.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 37:50إلى 37:53

فاقبل بعضھم ۔۔۔۔۔۔۔ انا لمدینون (50-53) ”

اس جتنی کا یہ دوست وقوع قیامت اور حسان و کتاب کا منکر تھا اور وہ اس جتنی کو ملا مت کرتا تھا کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ لوگ قیامت میں دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد کہ وہ مٹی ہوجائیں اور محض ہڈیاں رہ جائیں گی ۔ یہ جتنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ محو گفتگو ہے کہ اچانک اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ ذرا تلاش تو کرے کہ اس کے دوست کا انجام کیا ہوا ہے ۔ اسے یقین ہے کہ جنت میں تو وہ ہو نہیں سکتا لازما جہنم میں ہوگا۔ وہ خود بھی تلاش کرتا ہے اور دوستوں سے بھی کہتا ہے کہ اسے تلاش کیا جائے ۔