تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ٣٦:٣٧

٣٦:٣٧
ويقولون اينا لتاركو الهتنا لشاعر مجنون ٣٦
وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوٓا۟ ءَالِهَتِنَا لِشَاعِرٍۢ مَّجْنُونٍۭ ٣٦
وَيَقُولُونَ
أَئِنَّا
لَتَارِكُوٓاْ
ءَالِهَتِنَا
لِشَاعِرٖ
مَّجۡنُونِۭ
٣٦
ويقولون: أنترك عبادة آلهتنا لقول رجل شاعر مجنون؟ يعنون رسول الله صلى الله عليه وسلم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 37:33إلى 37:36

فاغوینکم انا کنا غوین (37: 32) ” سو ہم نے تم کو بہکایا ، ہم خود بہکے ہوئے تھے “۔ اب یہاں اس صورت حال ہر ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے۔ یہ گویا عدالت ، کھلی عدالت کا ایک فیصلہ ہے۔ جس کے اندر دلائل بھی موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں یہ لوگ ایسے کام کرتے رہے۔ اس لیے آخرت میں ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا :

فانھم یومئذ فی ۔۔۔۔۔۔ ب (34 – 36) ۔

اور یہ تبصرہ اور یہ فیصلہ ان لوگوں کی سرزنش پر ختم ہوتا ہے جنہوں نے دنیا میں یہ رائے اختیار کی تھی جبکہ یہ رائے نہایت ہی گھٹیا رائے تھی۔