تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ١٦٨:٣٧

١٦٨:٣٧
لو ان عندنا ذكرا من الاولين ١٦٨
لَوْ أَنَّ عِندَنَا ذِكْرًۭا مِّنَ ٱلْأَوَّلِينَ ١٦٨
لَوۡ
أَنَّ
عِندَنَا
ذِكۡرٗا
مِّنَ
ٱلۡأَوَّلِينَ
١٦٨
وإن كفار "مكة" ليقولون قبل بعثتك -أيها الرسول-: لو جاءنا من الكتب والأنبياء ما جاء الأولين قبلنا، لكنا عباد الله الصادقين في الإيمان، المخلَصين في العبادة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 37:167إلى 37:170

اب روئے سخن پھر مشرکین کی طرف پھرجاتا ہے جو ان افسانوی عقیدے کے قائل تھے۔ ان کو ان کے وہ وعدے اور وہ آرزوئیں یاد دلائی جاتی ہیں کہ جب وہ اہل کتاب کے ساتھ حسد کرتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی ایسی کتاب آجائے جس میں پہلے لوگوں کا ذکر ہو یعنی حضرت ابراہیم اور آپ کے بعد آنے والوں کا تو ہم اللہ کے مخلص اور اعلیٰ بندے بن جائیں اور اللہ کے ہاں ہمارا بلند مقام ہو۔

وان کانوا ۔۔۔۔۔ بہ فسوف یعلمون (167 – 170) “۔ یہ ہے وہ ذکر جو ان کے پاس آگیا اور یہ اس کرہ ارض پر عظیم ترین نصیحت ہے لیکن ان لوگوں نے اسے نہ پہچانا۔

فکفروا بہ فسوف یعلمون (37: 170) ” مگر جب آگیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اب عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ (عنقریب) کے لفظ میں درپردہ دھمکی بھی ہے اور یہ دھمکی ان کے مناسب حال ہے کیونکہ وہ خود تمنائیں کرتے تھے اور اب انکار کرتے ہیں۔ اس تہدید خفی کے بعد اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو غالب کرے گا اور ان کی نصرت کرے گا۔