تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يس ٧٩:٣٦

٧٩:٣٦
قل يحييها الذي انشاها اول مرة وهو بكل خلق عليم ٧٩
قُلْ يُحْيِيهَا ٱلَّذِىٓ أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ ٧٩
قُلۡ
يُحۡيِيهَا
ٱلَّذِيٓ
أَنشَأَهَآ
أَوَّلَ
مَرَّةٖۖ
وَهُوَ
بِكُلِّ
خَلۡقٍ
عَلِيمٌ
٧٩
قل له: يحييها الذي خلقها أول مرة، وهو بجميع خلقه عليم، لا يخفى عليه شيء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 36:78إلى 36:79

وضرب ۔۔۔۔۔ خلق علیم (36: 78-79) ” وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے ۔ کہتا ہے ” کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں “۔ اس سے کہو ، انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے “ کس قدر سادہ منطق ہے یہ ؟ نہایت فطری استدلال ۔ ایسا استدلال جو مشاہدہ کے مطابق نظر آتا ہے ۔ یہ نطفہ جو کچھ کہ وہ ہے کیا وہ بوسیدہ ہڈیوں سے زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے ۔ کیا انسان اسی نطفے سے نہیں بنا اور کیا انسان کی پیدائش ثالی کا عمل پیدائش ادل کا عمل نہیں ہے اور جس ذات نے اسے حقیر نطفے کو ایک انسان بنایا اور اسے وہ شخصیت دی کہ وہ صریح جھگڑالو بن گیا تم وہ ذات ان بوسیدہ ہڈیوں سے انسان کو تیار نہیں کرسکتی اور انہی ہڈیوں اور اجزاء سے ایک خلق جدید تیار نہیں کرسکتی ؟ یہ معاملہ تو بہت ہی آسان اور ظاہر ہے ۔ اور اس قدر ظاہر ہے کہ اس پر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ چہ جائیکہ کوئی اس پر مباحثہ کرے ۔

قل یحییھا۔۔۔۔ خلق علیم (36: 79) ” اس سے کہو ، انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے “۔

اس کے بعد اللہ کی قدرت خالقہ کی ماہیت کا ایک نمونہ انہیں بتایا جاتا کہ یہ بات ان کے ذہن میں بیٹھ جائے ۔ اللہ کی یہ صنعت کاری ان کے مشاہدہ اور ان کے روز مرہ کے معمولات میں سے ہے اور یہ اسے آزماتے رہتے ہیں ۔