تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١٤:٣١
ووصينا الانسان بوالديه حملته امه وهنا على وهن وفصاله في عامين ان اشكر لي ولوالديك الي المصير ١٤
وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُۥ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍۢ وَفِصَـٰلُهُۥ فِى عَامَيْنِ أَنِ ٱشْكُرْ لِى وَلِوَٰلِدَيْكَ إِلَىَّ ٱلْمَصِيرُ ١٤
وَوَصَّيۡنَا
ٱلۡإِنسَٰنَ
بِوَٰلِدَيۡهِ
حَمَلَتۡهُ
أُمُّهُۥ
وَهۡنًا
عَلَىٰ
وَهۡنٖ
وَفِصَٰلُهُۥ
فِي
عَامَيۡنِ
أَنِ
ٱشۡكُرۡ
لِي
وَلِوَٰلِدَيۡكَ
إِلَيَّ
ٱلۡمَصِيرُ
١٤
وأَمَرْنا الإنسان ببرِّ والديه والإحسان إليهما، حَمَلَتْه أمه ضعفًا على ضعف، وحمله وفِطامه عن الرضاعة في مدة عامين، وقلنا له: اشكر لله، ثم اشكر لوالديك، إليَّ المرجع فأُجازي كُلا بما يستحق.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 14 وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ ج ”یعنی والدین کے بارے میں حسن سلوک کی تاکیدی ہدایت کی۔ پھر والدین میں سے بھی والدہ کے حق کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ‘ کیونکہ بچوں کی پیدائش اور پرورش کے سلسلے میں زیادہ مشقت اور تکلیف والدہ ہی کو برداشت کرنا پڑتی ہے۔وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ ”پہلے نو ماہ تک بچہ ماں کے پیٹ میں رہ کر جونک کی طرح اس کا خون چوستا رہا اور پھر پیدائش کے بعد دو سال تک مسلسل اس کے جسم کی توانائیاں دودھ کی شکل میں نچوڑتا رہا۔ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ ”اب اللہ تعالیٰ اور والدین کے حقوق میں توازن کے سلسلے میں جو وضاحت اگلی آیت میں آرہی ہے وہ ہم سورة العنکبوت کی آیت 8 میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ اس سے ان دونوں سورتوں کے مضامین میں مشابہت اور مناسبت کی نشان دہی بھی ہوتی ہے۔