تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: البقرة ٦٦:٢

٦٦:٢
فجعلناها نكالا لما بين يديها وما خلفها وموعظة للمتقين ٦٦
فَجَعَلْنَـٰهَا نَكَـٰلًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةًۭ لِّلْمُتَّقِينَ ٦٦
فَجَعَلۡنَٰهَا
نَكَٰلٗا
لِّمَا
بَيۡنَ
يَدَيۡهَا
وَمَا
خَلۡفَهَا
وَمَوۡعِظَةٗ
لِّلۡمُتَّقِينَ
٦٦
فجعلنا هذه القرية عبرة لمن بحضرتها من القرى، يبلغهم خبرها وما حلَّ بها، وعبرة لمن يعمل بعدها مثل تلك الذُّنوب، وجعلناها تذكرة للصالحين; ليعلموا أنهم على الحق، فيثبتوا عليه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

یہ واقعہ اس دور میں اور اس کے متصلاً مابعد کے ادوار میں مخالفین حق کے لئے ایک نہایت ہی عبرت آموز واقعہ تھا اور مومنین کے لئے ہر دور میں یہ ایک بہترین نصیحت ہے فَجَعَلْنَاهَا نَكَالا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ ” اس طرح ہم نے ان کے انجام کو ، اس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لئے عبرت اور ڈرنے والوں کے لئے نصیحت بناکر چھوڑا “

اس سبق کے آخر میں اب گائے ذبح کرنے کا مشہور قصہ بیان کیا جاتا ہے ۔ یہ قصہ ایک کہانی کی شکل میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے ۔ اور اس سے قبل سورت میں بنی اسرائیل کے جو تاریخی واقعات بیان ہوئے ہیں ، ان میں اجمال واختصار سے کام لیا گیا ہے ۔ کیونکہ وہ تمام واقعات سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی مکی سورتوں میں بیان ہوچکے تھے لیکن یہ واقعہ کسی دوری جگہ بیان نہیں ہوا تھا ۔ یہ قصہ بنی اسرائیل کی لجاجت ، نافرمانی اور تعمیل حکم میں لیت ولعل اور عذر سازی کی واضح تصویر کھینچ کر رکھ دیتا ہے ، جس میں مدینہ کے یہودی ممتاز تھے ۔