تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: البقرة ١٧:٢

١٧:٢
مثلهم كمثل الذي استوقد نارا فلما اضاءت ما حوله ذهب الله بنورهم وتركهم في ظلمات لا يبصرون ١٧
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ ٱلَّذِى ٱسْتَوْقَدَ نَارًۭا فَلَمَّآ أَضَآءَتْ مَا حَوْلَهُۥ ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِى ظُلُمَـٰتٍۢ لَّا يُبْصِرُونَ ١٧
مَثَلُهُمۡ
كَمَثَلِ
ٱلَّذِي
ٱسۡتَوۡقَدَ
نَارٗا
فَلَمَّآ
أَضَآءَتۡ
مَا
حَوۡلَهُۥ
ذَهَبَ
ٱللَّهُ
بِنُورِهِمۡ
وَتَرَكَهُمۡ
فِي
ظُلُمَٰتٖ
لَّا
يُبۡصِرُونَ
١٧
حال المنافقين الذين آمنوا -ظاهرًا لا باطنًا- برسالة محمد صلى الله عليه وسلم، ثم كفروا، فصاروا يتخبطون في ظلماتِ ضلالهم وهم لا يشعرون، ولا أمل لهم في الخروج منها، تُشْبه حالَ جماعة في ليلة مظلمة، وأوقد أحدهم نارًا عظيمة للدفء والإضاءة، فلما سطعت النار وأنارت ما حوله، انطفأت وأعتمت، فصار أصحابها في ظلمات لا يرون شيئًا، ولا يهتدون إلى طريق ولا مخرج.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

چناچہ مزید وضاحت کی خاطر قرآن کریم مثالیں دے کر اس گروہ کی نفسیات ، اس کے مزاج کے تلون ، اس کی بےثباتی اور قلابازیوں کی مزید نشان دہی کرتا ہے کہ ایسے افراد کے خدوخال نکھر کر ہمارے سامنے آجائیں ۔

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لا يُبْصِرُونَ

” ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ، اسی لئے یہ اب نہ پلٹیں گے ۔ “

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں ان کا رویہ ایسا نہ تھا کہ انہوں نے ہدایت سے اعراض کیا ہو ، یا اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ہوں ، آنکھیں بند کرلی ہوں اور نہ یہ صورت تھی کہ انہوں نے اس تحریک کے مطالعے سے انکار کیا ہو ، جیسا کہ کفار نے کیا لیکن بعد میں انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو پسند کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے سوچ سمجھ کر غور وخوض کے بعد کیا ۔ انہوں نے آگ جلائی ۔ اس نے ان کے ماحول کو روشن بھی کیا لیکن انہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا حالانکہ وہ روشنی کے متلاشی تھے۔ جب ان لوگوں نے اپنی مطلوب روشنی کو پاکر بھی اس منہ موڑا تو اللہ نے ان کے اس رویے کی وجہ سے ان کا نور بصارت ہی سلب کرلیا اور انہیں اس حال میں چھوڑدیا کہ تاریکی میں بھٹکتے پھریں کیونکہ انہوں نے عین اس چیز سے منہ موڑا جس کے وہ طالب تھے ۔