تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القصص ١:٢٨

١:٢٨
طسم ١
طسٓمٓ ١
طسٓمٓ
١
(طسم) سبق الكلام على الحروف المقطَّعة في أول سورة البقرة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 28:1إلى 28:2

درس نمبر 176 تشریح آیات

1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 43

طسم (1) تلک ایت الکتٰب المبین (2)

” “۔ سورت کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ۔ حر وف تہجی سے آغاز کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت ایسے ہی حروف سے مر کب ہے ، لیکن عام حروف تہجی سے مر کب یہ کتاب ایک بلند مر تبہ اور معجز انہ کتاب ہے۔ ان ہی حروف سے بننے والی دوسری کتابوں اور اس کتاب میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ یہ کتاب عام لوگوں ہی کی زبان میں ہے ، عام لوگ فانی ہیں لیکن یہ کتاب لازوال ہے ۔ اور یہ تلک ایت الکتب المبین (2:28) ” یہ کتاب مبین کی آیات ہیں “۔ لہٰذایہ کتاب مبین کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے کیونکہ اگر انسان کی بنائی ہوئی ہوتی تو دوسرے انسان بھی ایسی کتاب بنا کرلے آتے جبکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ انسان ایسی کتاب نہیں لاسکے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ یہ وحی من جانب اللہ ہے اور اس سے اس کی فصاحت وبلاغت اور معجزانہ شان بالکل واضح

ہے ۔ پھر اس کے اندر جو مضامین ہیں وہ چھوٹے بڑے معاملے میں سچائی کی چھاپ لیے ہوئے ہیں ۔