تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النمل ٥١:٢٧

٥١:٢٧
فانظر كيف كان عاقبة مكرهم انا دمرناهم وقومهم اجمعين ٥١
فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَـٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ ٥١
فَٱنظُرۡ
كَيۡفَ
كَانَ
عَٰقِبَةُ
مَكۡرِهِمۡ
أَنَّا
دَمَّرۡنَٰهُمۡ
وَقَوۡمَهُمۡ
أَجۡمَعِينَ
٥١
فانظر -أيها الرسول- نظرة اعتبار إلى عاقبة غَدْر هؤلاء الرهط بنبيهم صالح؟ أنا أهلكناهم وقومهم أجمعين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

فانظر ……ظلموا ط

ایک لمحے کے اندر ان کو برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ اگلے لمحے میں ان کے محلات ان پر الٹ دیئے گئے۔ گھر خالی رہ گئے ۔ ایک لمحہ پہلے وہ تو اہل ایمان کے خلاف سازشیں کر رہے تھے اور ان کو پورا یقین تھا کہ وہ اپنی سازشوں پر عمل کرسکیں گے۔

سیاق کلام میں یہ شتابی کہ ادھر سازش ہوئی ادھر وہ صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ اس اچانک اور فیصلہ کن گرفت سے ڈرانا مقصود ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں قوت آجاتی ہے۔ وہ مغرور نہ ہوں اور غرے میں نہ آجائیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو اسی طرح اچانک گرفت میں لے سکتا ہے اور ان کو ان کی مکاریوں اور تدابیر کے ساتھ ہلاک کرسکتا ہے۔