تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الشعراء ١٥٦:٢٦

١٥٦:٢٦
ولا تمسوها بسوء فياخذكم عذاب يوم عظيم ١٥٦
وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍۢ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ ١٥٦
وَلَا
تَمَسُّوهَا
بِسُوٓءٖ
فَيَأۡخُذَكُمۡ
عَذَابُ
يَوۡمٍ
عَظِيمٖ
١٥٦
قال لهم صالح- وقد أتاهم بناقة أخرجها الله له من الصخرة-: هذه ناقة الله لها نصيب من الماء في يوم معلوم، ولكم نصيب منه في يوم آخر. ليس لكم أن تشربوا في اليوم الذي هو نصيبها، ولا هي تشرب في اليوم الذي هو نصيبكم، ولا تنالوها بشيء مما يسوءها كضَرْبٍ أو قتل أو نحو ذلك، فيهلككم الله بعذابِ يومٍ تعظم شدته؛ بسبب ما يقع فيه من الهول والشدة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 26:155إلى 26:156

قال ھذہ ……یوم عظیم (161)

یہ معجزانی اونٹنی اس شرط پر آئی کہ جو محدود آغوشی کی سہولتیں انہیں حاصل تھیں وہ ایک دن کے لئے ناقہ کے لئے وقف ہوں گی اور دوسرا دن ان کے لئے اور انکے مویشیوں کے لئے ہوگا۔ نافقہ کے دن میں یہ دخل اندازی نہ کریں گے اور نہ ناقہ ان کے دن پانی پینے گی۔ دونوں دنوں کا پانی اکٹھا نہ ہوگا۔ نہ ان کا ان ناقہ کے دن سے ملے گا اور نہ ناقہ کا ان کے دن سے۔ تو صالح (علیہ السلام) نے ان کو ڈرایا کہ اس کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرو گے۔ ورنہ ایک عظیم عذاب تم پر نازل ہوجائے گا۔

ان سرکشوں کے لئے یہ معجزہ کوئی مفید ثابت نہ ہوا۔ ان کے دلوں کے اندر ایمان بھی نہ داخل ہوا ، ان کی روحانی دنیا پر ظلمتیں چھائی رہیں لیکن پانی ان کے لئے نصف ہوگیا۔ باوجود تاکید و وصیت کے ان سے نہ رہا گیا۔ انہوں نے وعدہ خلافی کردی۔