تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الشعراء ١٣٩:٢٦

١٣٩:٢٦
فكذبوه فاهلكناهم ان في ذالك لاية وما كان اكثرهم مومنين ١٣٩
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـٰهُمْ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ١٣٩
فَكَذَّبُوهُ
فَأَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكَ
لَأٓيَةٗۖ
وَمَا
كَانَ
أَكۡثَرُهُم
مُّؤۡمِنِينَ
١٣٩
فاستمَرُّوا على تكذيبه، فأهلكهم الله بريح باردة شديدة. إن في ذلك الإهلاك لَعبرة لمن بعدهم، وما كان أكثر الذين سمعوا قصتهم مؤمنين بك. وإن ربك لهو العزيز الغالب على ما يريده من إهلاك المكذبين، الرحيم بالمؤمنين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 26:139إلى 26:140

فکذبوہ فاھلکنھم

غرض صرف دو لفظوں میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے۔ دو لفظوں میں قصہ تمام ” تکذیب “ کی ” ہلاک ہوئے “۔ وہ تمام محلات لپیٹ دیئے گئے۔ وہ تمام انعامات و اکرامات واپس لے لئے گئے۔ وہ تمام مویشی ، تمام آبادی ، تمام باغات اور تمام چشمے لپیٹے گئے۔

غرض صرف دو لفظوں میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے۔ دو لفظوں میں قصہ تمام ” تکذیب “ کی ” ہلاک ہوئے۔ “ وہ تمام محلات لپیٹ دیئے گئے۔ وہ تمام انعامات و اکرامات واپس لے لئے گئے۔ وہ تمام مویشی ، تمام آبادی ، تمام باغات اور تمام چشمے لپیٹے گئے۔

قوم عاد کے بعد کئی دوسری اقوام نے انسانی تاریخ میں عادیوں کی طرح سوچا ، عادیوں کی طرح دھوکہ کھایا ، اللہ سے دور ہو کر انہوں نے تہذیب و تمدن میں ترقی کی اور یہ سوچا کہ اب انسان اس قدر ترقی کرچکا ہے کہ اسے خدا کی ضرورت نہیں ہے۔ کئی اقوام نے دوسروں کے لئے ہلاکت کا سامان تیار کیا اور اپنے آپ کو بچایا اور یہ سوچتی رہیں کہ یہ ساز و سامان اسے اپنے دشمنوں سے بچا لے جائے گا لیکن ایسی اقوام کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس کے دائیں ، اس کے بائیں ، اس کے اوپر ، اس کے نیچے اور ہر طرف سے اس پر عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔