تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الشعراء ١٠٣:٢٦

١٠٣:٢٦
ان في ذالك لاية وما كان اكثرهم مومنين ١٠٣
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ١٠٣
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكَ
لَأٓيَةٗۖ
وَمَا
كَانَ
أَكۡثَرُهُم
مُّؤۡمِنِينَ
١٠٣
إن في نبأ إبراهيم السابق لَعبرة لِمن يعتبر، وما صار أكثر الذين سمعوا هذا النبأ مؤمنين. وإن ربك لهو العزيز القادر على الانتقام من المكذبين، الرحيم بعباده المؤمنين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 26:103إلى 26:104

ان فی ……الرحیم (104)

یہ وہی تبصرہ ہے جو اس سورت میں قوم عاد ، قوم ثمود اور قوم لوط کی تباہی کے واقعات کے بیان کے بعد آیا ہے۔ نیز یہ تبصرہ ان تمام معجزات کے بعد بھی آیا ہے۔ جو جھٹلانے والوں کو دکھائے گئے۔ قیامت کے مناظر میں سے یہ منظر ان مکذبین کے مناظر عبرت کے بالمقابل آیا ہے۔ جن کا تذکرہ اس سورت میں آیا ہے اور جن کو اس جہاں میں نیست و نابود کیا گیا ۔ یہاں قوم ابراہیم اور ان مشرک اقوام کے انجام کی تصویر کشی کی گئی تھی اور اس سورت کے تمام قصص سے یہی سبق دینا مطلوب ہے۔ قرآن کریم میں قیامت کے مناظر اسی طرح پیش کئے جاتے ہیں جس طرح گویا یہ افعال ہمارے سامنے واقع ہو رہے ہیں۔ ہمیں نظر آ رے ہیں۔ اس انداز بیان سے وہ انسانی شعور کا جزء بن جاتے ہیں۔ انسانی وجدان جاگ اٹھتا ہے جس طرح تاریخ میں انسانوں نے دیکھا کہ مکذبین کو مختلف عذابوں میں مبتلا کر کے نیست و نابود کیا گیا اور لوگ دیکھتے ہی رہے۔ اسی طرح قیامت کے مناظر ہوں گے۔