تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: طه ٥٢:٢٠

٥٢:٢٠
قال علمها عند ربي في كتاب لا يضل ربي ولا ينسى ٥٢
قَالَ عِلْمُهَا عِندَ رَبِّى فِى كِتَـٰبٍۢ ۖ لَّا يَضِلُّ رَبِّى وَلَا يَنسَى ٥٢
قَالَ
عِلۡمُهَا
عِندَ
رَبِّي
فِي
كِتَٰبٖۖ
لَّا
يَضِلُّ
رَبِّي
وَلَا
يَنسَى
٥٢
قال موسى لفرعون: ما سألت عنه مما نحن بصدده، بل عِلْمُ تلك القرون فيما فَعَلَت من ذلك عند ربي في اللوح المحفوظ، ولا عِلْمَ لي به، لا يضل ربي في أفعاله وأحكامه، ولا ينسى شيئًا ممَّا علمه منها.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

قال علمھا ……ینسی (25)

فرعون کے اس دوسرے سوال کو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ پر چھوڑ دیا کیونکہ اس کا تعلق زمانہ ماقبل سے تھا۔ جو اب کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں اللہ خوب جانتا ہے ، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور وہ کبھی بھولتا بھی نہیں۔ وہی ہے جو تمام زمانوں کی بات جانتا ہے ، ماضی ہو یا مستقبل ہو ، غیب بھی اللہ جانتا ہے اور اپنے بندوں کے بارے میں احکام بھی اللہ صادر کرے گا۔

ان سوالات کے جوابات کے بعد حضرت موسیٰ فرعون کے سامنے اللہ کا مزید تعارف کراتے ہیں کہ وہ اس کائنات کا مدبر ہے ، تمام انسانوں پر اس کی نعمتیں کیا کیا ہیں ، چناچہ کائنات اور مصری ماحول کے بعض اہم شواہد پیش کئے جاتے ہیں ، کیونکہ مصری سر زمین ایک سرسبز و شاداب زمین تھی۔ پانی وہاں وافر تھا اور فصل اور مویشی بکثرت تھے۔