تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: طه ٢٥:٢٠

٢٥:٢٠
قال رب اشرح لي صدري ٢٥
قَالَ رَبِّ ٱشْرَحْ لِى صَدْرِى ٢٥
قَالَ
رَبِّ
ٱشۡرَحۡ
لِي
صَدۡرِي
٢٥
قال موسى: رب وسِّع لي صدري، وسَهِّل لي أمري، وأطلق لساني بفصيح المنطق; ليفهموا كلامي. واجعل لي معينا من أهلي، هارون أخي. قَوِّني به وشدَّ به ظهري، وأشركه معي في النبوة وتبليغ الرسالة; كي ننزهك بالتسبيح كثيرًا، ونذكرك كثيرا فنحمدك. إنك كنت بنا بصيرًا، لا يخفى عليك شيء من أفعالنا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:25إلى 20:29

قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (52 تا 53) ”

اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ ‘ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہل کہ ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔

انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی ‘ راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا ، دوسری سورة میں اس کے بارے میں یوں آیا ہے۔