تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: طه ١١٣:٢٠

١١٣:٢٠
وكذالك انزلناه قرانا عربيا وصرفنا فيه من الوعيد لعلهم يتقون او يحدث لهم ذكرا ١١٣
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَـٰهُ قُرْءَانًا عَرَبِيًّۭا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ ٱلْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًۭا ١١٣
وَكَذَٰلِكَ
أَنزَلۡنَٰهُ
قُرۡءَانًا
عَرَبِيّٗا
وَصَرَّفۡنَا
فِيهِ
مِنَ
ٱلۡوَعِيدِ
لَعَلَّهُمۡ
يَتَّقُونَ
أَوۡ
يُحۡدِثُ
لَهُمۡ
ذِكۡرٗا
١١٣
وكما رغَّبنا أهل الإيمان في صالحات الأعمال، وحذَّرنا أهل الكفر من المقام على معاصيهم وكفرهم بآياتنا، أنزلنا هذا القرآن باللسان العربي; ليفهموه، وفصَّلنا فيه أنواعًا من الوعيد; رجاء أن يتقوا ربهم، أو يُحدِث لهم هذا القرآن تذكرة، فيتعظوا، ويعتبروا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

یعنی ہم نے نہایت ہی موثر انداز میں شاہد قیامت ، مناظر عذاب ، اور عبرت آموز کہانیاں ابر بار پیش کی ہیں تکاہ لوگوں کے اندر نیکی کے لئے جوش پیدا ہو اور جھٹلانے والے ڈر جائیں اور جان لیں کہ قیامت میں ان کا انجام کس قدر ہولناک ہوگا۔ یہی مضمون سورة کے آغاز میں بھی تھا۔

ما انزلنا علیک القرآن لتشقی (2) الاتذکرہ لمن یخشی (02 : 2-3) ” یہ قرآن ہم نے تجھ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں گرفتار ہو جائو بلکہ یہ تو اس شخص کے لئے یاد دہانی ہے جو ڈرے۔ “

جب جبرائیل وحی لے کر آتے تھے تو ابھی وہ پوری وحی نہ سنا چکتے کہ حضور دہرانا شروع کردیتے ، اس خوف سے کہ کہیں کوئی لفظ چھوٹ نہ جائے۔ ہر نئی وحی کا یاد کرنا آپ کے لئے شاق ہوتا تھا۔ چناچہ اللہ نے آپ کو یہ اطمینان دلا دیا کہ آپ پریشان نہ ہوں ، اللہ اس کا ضامن ہے کہ آپ نہ بھولیں گے۔