تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: مريم ٥٥:١٩

٥٥:١٩
وكان يامر اهله بالصلاة والزكاة وكان عند ربه مرضيا ٥٥
وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُۥ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِۦ مَرْضِيًّۭا ٥٥
وَكَانَ
يَأۡمُرُ
أَهۡلَهُۥ
بِٱلصَّلَوٰةِ
وَٱلزَّكَوٰةِ
وَكَانَ
عِندَ
رَبِّهِۦ
مَرۡضِيّٗا
٥٥
وكان يأمر أهله بإقام الصلاة وإيتاء الزكاة، وكان عند ربه عز وجل مرضيًا عنه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 19:54إلى 19:55

حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لئے صادق الوعد کی صفت لائی گئی ہے۔ ہر نبی اور صالح شخص کو صادق الوعد ہونا چاہیے اور ہوتا ہے۔ لیکن حضرت اسماعیل میں یہ صفت بہت ہی نمایاں تھی اس لئے انکی خصوصی صفات میں سے یہاں اس صفت کو بیان کردیا گیا۔

ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ” رسول نبی “ تھے ‘ لہٰذا ان کی مخصوص دعوت ہوگئی۔ عرب میں حضور کے زمانے تک بعض موحدیں پائے جاتے تھے۔ یہ انہی کی دعوت کے آثار باقیہ تھے۔ ان کے دین اور دعوت کے ارکان بھی یہاں گنوائے گئے ہیں ‘ زکوۃ اور صلوۃ اور تظہیراہل خانہان کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ اللہ کی بار گاہ میں وہ پسندیدہ انسان تھے۔ رضائے خداوندی بھی اس سورة کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ رحمت و رضا مندی قریب قریب کی صفات ہیں۔

اس سبق کا خاتمہ ذکر ادریس (علیہ السلام) پر ہوتا ہے :