تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٨٠:١٥
ولقد كذب اصحاب الحجر المرسلين ٨٠
وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَـٰبُ ٱلْحِجْرِ ٱلْمُرْسَلِينَ ٨٠
وَلَقَدۡ
كَذَّبَ
أَصۡحَٰبُ
ٱلۡحِجۡرِ
ٱلۡمُرۡسَلِينَ
٨٠
ولقد كذَّب سكان «وادي الحِجْر» صالحًا عليه السلام، وهم ثمود فكانوا بذلك مكذبين لكل المرسلين; لأن من كذَّب نبيًا فقد كذَّب الأنبياء كلهم; لأنهم على دين واحد.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 80 وَلَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ الْمُرْسَلِيْنَ اصحاب الحجر سے مراد قوم ثمود ہے۔ قوم ثمود حجر کے علاقے میں آباد تھی اور ان کی طرف حضرت صالح مبعوث کیے گئے تھے۔ جیسے حضرت ہود کی قوم عاد کا ذکر ”احقاف“ کے حوالے سے بھی ہوا ہے ملاحظہ ہو سورة الاحقاف جو اس قوم کا علاقہ تھا ‘ اسی طرح قوم ثمود کا ذکر یہاں ”اصحاب الحجر“ کے نام سے ہوا ہے۔ یہاں پر ”مرسلین“ کے لفظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم میں پہلے بہت سے انبیاء آئے اور پھر آخر میں رسول کی حیثیت سے حضرت صالح تشریف لائے۔