تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يوسف ٧٥:١٢

٧٥:١٢
قالوا جزاوه من وجد في رحله فهو جزاوه كذالك نجزي الظالمين ٧٥
قَالُوا۟ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّـٰلِمِينَ ٧٥
قَالُواْ
جَزَٰٓؤُهُۥ
مَن
وُجِدَ
فِي
رَحۡلِهِۦ
فَهُوَ
جَزَٰٓؤُهُۥۚ
كَذَٰلِكَ
نَجۡزِي
ٱلظَّٰلِمِينَ
٧٥
قال إخوة يوسف: جزاء السارق مَن وُجِد المسروق في رحله فهو جزاؤه. أي يسلَّم بسرقته إلى مَن سرق منه حتى يكون عبدًا عنده، مثل هذا الجزاء -وهو الاسترقاق- نجزي الظالمين بالسرقة، وهذا ديننا وسنتنا في أهل السرقة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

قالوا جزؤہ ۔۔۔۔۔۔ الظلمین “ انہوں نے کہا اس کی سزا ؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے۔ ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے ”۔

یہ سب گفتگو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی موجودگی میں ہو رہی تھی اور وہ یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے ۔ اس لیے کہ انہوں نے تلاشی کا حکم دیا اور ان کی دانش مندی نے انہیں یہ سمجھایا کہ دوسرے بھائیوں کے باروں کی تلاشی پہلے لی جائے تا کہ تفتیش اور تدبیر کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو۔