تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يوسف ٢٩:١٢

٢٩:١٢
يوسف اعرض عن هاذا واستغفري لذنبك انك كنت من الخاطيين ٢٩
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـٰذَا ۚ وَٱسْتَغْفِرِى لِذَنۢبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلْخَاطِـِٔينَ ٢٩
يُوسُفُ
أَعۡرِضۡ
عَنۡ
هَٰذَاۚ
وَٱسۡتَغۡفِرِي
لِذَنۢبِكِۖ
إِنَّكِ
كُنتِ
مِنَ
ٱلۡخَاطِـِٔينَ
٢٩
قال عزيز «مصر» : يا يوسف اترك ذِكْر ما كان منها فلا تذكره لأحد، واطلبي -أيتها المرأة- المغفرة لذنبك؛ إنك كنتِ من الآثمين في مراودة يوسف عن نفسه، وفي افترائك عليه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

یوسف کی طرف متوجہ ہو کر بھی یہی کہا گیا۔

اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا : " درگزر کر۔ یعنی اس بات کو یہیں چھوڑ دے ، اس کا تذکرہ نہ کر ، حالات کو جوں کا توں رکھو۔ اس قسم کے معاشرے میں یہ اہم بات ہے۔

اور عورت جو رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی اس کے لیے یہی تبصرہ کہ تم خطا کار ہو لہذا اپنے گناہوں پر معافی مانگو۔ یہ ہیں اس وقت کے سرکردہ بیوروکریٹ اور بڑوں کے حاشیہ نشین۔ ہر جاہلیت میں یہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔

اب پردہ گرتا ہے اور یہ منظر ختم ہوتا ہے۔ سیاق کلام میں اس مرحلے کو اپنے تام حالات ، تاثرات اور اشارات کے ساتھ پیش کردیا گیا ، لیکن اس نازک مرحلے کو حیوانی لذتیت سے پاک رکھا گیا اور نہایت ہی انسانی اور شریفانہ انداز اختیار کیا گیا۔