تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٧٧:١١
ولما جاءت رسلنا لوطا سيء بهم وضاق بهم ذرعا وقال هاذا يوم عصيب ٧٧
وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًۭا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًۭا وَقَالَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌۭ ٧٧
وَلَمَّا
جَآءَتۡ
رُسُلُنَا
لُوطٗا
سِيٓءَ
بِهِمۡ
وَضَاقَ
بِهِمۡ
ذَرۡعٗا
وَقَالَ
هَٰذَا
يَوۡمٌ
عَصِيبٞ
٧٧
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آپ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ، ان کی فطرت کے اندر جو بگاڑ اور گندگی پیدا ہوگئی تھی وہ ناقابل تصور اور بےمثل تھی۔ وہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوانی تعلقات قائم کرتے تھے۔ اور یہ حرکت اس نظام فطرت کے خلاف تھی جس کے مطابق اللہ نے تمام مخلوقات کو نر اور مادہ کی شکل میں پیدا کیا ، تا کہ تمام انواع کی بقا اور تسلسل قائم رہ سکے اور جس کے ذریعے نوامیس فطرت نے انسان کے لیے جو لذت اور خوشی ودیعت کی ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔

یہ راہ فطرت انسان خود اپنے غور و فکر اور اپنی تدابیر اور محنت سے حاصل نہیں کرسکتا ، صرف راہ راست پر استقامت اور ہدایت ربانی سے یہ لذت مل سکتی ہے۔ جنسی بےراہ روی کے سلسلے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کے اندر اس قسم کی شاذ ونادر بےراہ روی تو انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ بعض انسان بیمار ہوتے ہیں لیکن قوم لوط (علیہ السلام) کی بیماری ایک عجیب اور ہمہ گیر بیماری تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفسیاتی بیماریاں بھی اسی طرح پیھل جاتی ہیں جس طرح جسمانی بیماریاں پھیل جاتی ہیں اور اگر کسی سوسائٹی کا معیار حسن و قبح بدل جائے تو اس کے اندر ایسی بیماریاں بھی پھیل جاتی ہیں اور قوم پوری کی پو ری اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوجاتی ہے اور یہ بگاڑ سوسائٹی کے بگڑے ہوئے تصورات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ بگاڑ انسانی فطرت سلیمہ کے ساتھ متصادم ہوتا ہے ، کیونکہ فطرت سلیمہ تو کائنات کے نوامیس کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے اور وہ موجبات حیات کی ممد ہوتی ہے ، متصادم نہیں ہوتی جبکہ یہ جنسی بےراہ روی امتداد حیات کے نظام کے ساتھ متصادم ہوتی ہے۔ انسان تخم حیات کو ایسی سرزمین میں بوتا ہے جہاں سے زندگی کی نشوونما نہیں ہو سکتی ، یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی جنسی بےراہ روی سے انسانی فطرت نہ صرف یہ کہ اخلاقی طور پر متصادم ہوتی ہے بلکہ قوانین فطرت بھی اس سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ عمل قوم لوط نہ صرف یہ کہ فطرت کے خلاف ہے بلکہ نظام امتداد حیات اور حقیقی لذت کے بھی خلاف ہے۔

بعض اوقات انسان موت میں وہ لذت محسوس کرتا ہے جو حیات میں نہیں ہوتی لیکن یہ لذت اعلیٰ اقدار اور بلند مقاصد کے حصول کے لیے ہوتی ہے۔ یہ حسی اور جسمانی لذت نہیں ہوتی اور جہاد میں سر قربان کرنا نظام بقائے حیات کے ساتھ متصادم نہیں ہے بلکہ اس طرح زندگی کو کم کرنا دوسرے پہلو سے زندگی کو بلند کرنا ہے۔ اللہ کی راہ میں شہادت سے زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ زندگی ایک دوسرا انداز اختیار کرتی ہے۔

تو حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کو دیکھ کر بہت ہی کبیدہ خاطر ہوئے ، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ان کی قوم ان خوبصورت مہمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی اور اس طرح انہیں بہت ہی شرمندہ ہونا پڑے گا۔ هَذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ “ آج بڑی مصیبت کا دن ہے

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
تبرع
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة