Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tafsir: Ar-Rúm 30:28

30:28
ضرب لكم مثلا من انفسكم هل لكم من ما ملكت ايمانكم من شركاء في ما رزقناكم فانتم فيه سواء تخافونهم كخيفتكم انفسكم كذالك نفصل الايات لقوم يعقلون ٢٨
ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًۭا مِّنْ أَنفُسِكُمْ ۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُم مِّن شُرَكَآءَ فِى مَا رَزَقْنَـٰكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَآءٌۭ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ ٢٨
ضَرَبَ
لَكُم
مَّثَلٗا
مِّنۡ
أَنفُسِكُمۡۖ
هَل
لَّكُم
مِّن
مَّا
مَلَكَتۡ
أَيۡمَٰنُكُم
مِّن
شُرَكَآءَ
فِي
مَا
رَزَقۡنَٰكُمۡ
فَأَنتُمۡ
فِيهِ
سَوَآءٞ
تَخَافُونَهُمۡ
كَخِيفَتِكُمۡ
أَنفُسَكُمۡۚ
كَذَٰلِكَ
نُفَصِّلُ
ٱلۡأٓيَٰتِ
لِقَوۡمٖ
يَعۡقِلُونَ
٢٨
[Dios] les propone un ejemplo tomado de su propia vivencia: “¿Aceptarían acaso que algunos de entre la servidumbre compartieran con ustedes los bienes que les he concedido, que [repentinamente] tuvieran partes iguales, o que tuvieran ustedes que temerles como temen a sus adversarios?” Así es como aclaro los signos para quienes razonan.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith

ضرب لکم مثلا ۔۔۔۔۔ لقوم یعقلون (28)

یہ مثال ان لوگوں کے لیے دی گئی ہے جو اللہ کی مخلوق میں سے کسی مخلوق کو اللہ کا شریک بناتے ہیں۔ چاہے جن ہوں ، چاہے ملائکہ ہوں ، پتھر ہوں یا درخت ہوں ، لیکن ان کا حال یہ ہے کہ وہ خود اپنے مالوں میں ، اپنے نوکروں اور غلاموں کو شریک نہیں کرتے ۔ اپنے غلام کو شریک کیا ، اپنے برابر انسان کا درجہ بھی نہیں دیتے۔ لہٰذا ان کا یہ رویہ بہت ہی عجیب ہے کہ وہ اللہ کا شریک ان لوگوں کو بتاتے ہیں جو اللہ کی مخلوق ہیں جبکہ اپنے زیردستوں کو اپنے مالوں میں شریک نہیں کرتے۔ یہ ان کا مال خود ان کا تخلیق کردہ بھی نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کا تخلیق کردہ ہے۔ لہٰذا ان کے موقف میں یہ واضح تضاد ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس تمثیل کو نہایت ہی تدریج کے ساتھ بیان فرماتے ہیں۔

ضرب لکم مثلا من انفسکم (30: 28) ” وہ تمہیں خود تمہاری اپنی ہی ذات سے مثال دیتا ہے “۔ یہ مثال تمہاری عملی زندگی سے دور نہیں ہے کہ تم اسے سمجھ نہ سکو۔ اس کے ملاحظے کے لیے کسی دور دراز علاقے کا سفر ضروی نہیں ہے۔

ھل لکم ما ۔۔۔۔۔ فیہ سوآء (30: 28) ” کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں ، کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دئیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں “۔ ظاہر ہے کہ مشرکین مکہ تو یہ بھی نہ چاہتے تھے کہ ان کے غلام ان کی دولت میں شریک ہوں چہ جائیکہ کہ ان کے حقوق ان کے ساتھ مساویانہ ہوں۔

تخافونھم کخیفتکم انفسکم (30: 28) ” اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے آپ سے ڈرتے ہو “۔ یعنی ان کو وہی مرتبہ ومقام دیتے ہو جو تم آپس میں اپنے آزاد شرکاء کو دیتے ہو۔ اور تم ڈرتے ہو کہ وہ تم پر ظلم کریں گے اور تم ان کے ساتھ ظلم کرنے سے احتیاط کرتے ہو کیونکہ ان کو تمہارے ساتھ برابر کا مقام و مرتبہ حاصل ہے کیا تمہارے ماحول میں اور خود تمہارے معاشرے میں ایسا ہوتا ہے ؟ اگر خود تم اپنے غلاموں کے ساتھ مساویانہ سلوک نہیں رتے ہو اور نہ اس پر راضی ہوتے ہو تو بتاؤ کہ ملاء اعلیٰ کے بارے میں کیونکر ایسی بات سوچتے ہو۔ یہ ایک واضح ، سادہ اور فیصلہ کن مثال ہے۔ اس کے بعد اس موضوع پر کوئی جدل وجدال نہیں رہتا۔ یہ مثال ایک نہایت ہی سادہ استدلال اور عقل سلیم پر مبنی ہے۔

کذلک نفصل الایت لقوم یعقلون (30: 28) ” اسی طرح ہم آیات کھول کر پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ ان کے عقائد کے اس پوچ تضاد کو یہاں تک کھول کر بیان کردینے کے بعد اب یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے عقائد کے اندر یہ تضاد پیدا کیوں ہوا۔ اس کا اصل سبب کیا ہے۔ صرف یہ کہ ان کا نفس یہی چاہتا ہے اور جب کوئی شخص خواہشات نفسانیہ کا غلام ہوجائے تو پھر عقل و بصیرت سے محروم ہوجاتا ہے۔