Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Ar-Ra'd 13:24

13:24
سلام عليكم بما صبرتم فنعم عقبى الدار ٢٤
سَلَـٰمٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى ٱلدَّارِ ٢٤
سَلَٰمٌ
عَلَيۡكُم
بِمَا
صَبَرۡتُمۡۚ
فَنِعۡمَ
عُقۡبَى
ٱلدَّارِ
٢٤
Onlar, Rablerinin rızasını dileyerek sabrederler, namazı kılarlar; kendilerine verdiğimiz rızıktan, gizlice ve açıkça sarfederler; iyilik yaparak kötülüğü ortadan kaldırırlar; işte onlara bu dünyanın iyi sonucu, girecekleri Adn cennetleri vardır; babalarının, eşlerinin, çocuklarının iyi olanları da oraya girerler. Melekler her kapıdan yanlarına girip: "Sabretmenize karşılık size selam olsun; burası dünyanın ne güzel bir sonucudur!" derler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
13:23 ile 13:24 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

آیت نمبر 23 تا 24

ان ہی لوگوں کے لئے آخرت کا گھر ہے۔ یہ آخرت میں عالی مقام ہوں گے۔ ایسے باغات ہوں گے جو ان کے قیام کے لئے ابدی اور دائمی ہوں گے۔ ایسے ہی باغات میں ان کے اقارب و رشتہ دار ، آباء و اولاد ان کے ساتھ ہوں گے ، یعنی ان میں سے وہ جو صالح ہوں گے اور یہ لوگ ان باغات میں اپنی نیکی اور صلاح کی بنیاد پر داخل ہوں لیکن ان کے ساتھ ان کے اکرام کے طور پر ان کے رشتہ دار بھی داخل ہوں گے۔ دوست اور یار بھی وہاں ہوں گے۔ دوست و احباب اور آباء واولاد کا اجتماع ایک محبوب اور لذیذ چیز ہے جس سے جنت کے مزے دو چند ہوں گے۔

اس اجتماع میں جہاں دوست و احباب ہوں گے اور جہاں اعزہ و اقارب ہوں گے ملائکہ کی طرف سے اھلاً و سھلاً اور مبارکباد کے پیغامات ہوں گے اور بیشمار لوگ وہاں آجا رہے ہوں گے۔

یدخلون علیھم من کل باب (13 : 23) ” ہر طرف سے ان پر داخل ہوں گے “ یہاں آکر انداز گفتگو اس طرح ہوجاتا کہ گویا ہم اس منظر کو دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرف سے ملائکہ گروہ در گروہ آ رہے ہیں اور مبارک و سلامت ہو رہی ہے۔

سلم علیکم۔۔۔۔۔ الدار (13 : 24) ” تم پر سلامتی ہے ، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اس کی بدولت آج تم اس کے مستحق ہوئے ہو “۔ گویا ایک محفل مسرت ہوگی اور ہر طرف سے خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی اور سلامت و مبارک اور جشن مسرت کی ہلچل برپا ہوگی۔

اور دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کی عقل کام نہ کر رہی تھی اس لیے وہ نصیحت نہ پکڑ سکے ، نہ ان میں بصیرت تھی کہ وہ مشکلات راہ حق پر صبر کرتے۔ ان لوگوں کی حالت ہر لحاظ سے عقلمند اور دانشور لوگوں کے برخلاف اور علی العکس ہوگی۔