Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Bayan ul Quran Tafsir: Al-Mu'minun Ayah 63

23:63
بل قلوبهم في غمرة من هاذا ولهم اعمال من دون ذالك هم لها عاملون ٦٣
بَلْ قُلُوبُهُمْ فِى غَمْرَةٍۢ مِّنْ هَـٰذَا وَلَهُمْ أَعْمَـٰلٌۭ مِّن دُونِ ذَٰلِكَ هُمْ لَهَا عَـٰمِلُونَ ٦٣
بَلۡﱢ
قُلُوبُهُمۡﱣ
فِيﱤ
غَمۡرَةٖﱥ
مِّنۡﱦ
هَٰذَاﱧ
وَلَهُمۡﱨ
أَعۡمَٰلٞﱩ
مِّنﱪ
دُونِﱫ
ذَٰلِكَﱬ
هُمۡﱭ
لَهَاﱮ
عَٰمِلُونَﱯ
٦٣ﱰ
But the hearts of those ˹who disbelieve˺ are oblivious to ˹all of˺ this,1 and they have other ˹evil˺ deeds, opposite to this, in which they are engrossed.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 23:63 to 23:64

وَلَہُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِکَ ہُمْ لَہَا عٰمِلُوْنَ ”اوپر اہل ایمان کے جن اعمال کا تذکرہ کیا گیا ہے ‘ ان کے مشاغل اور سرگرمیاں ان سے یکسر مختلف ہیں۔ ایسے لوگوں کے پاس دین کی خدمت اور بھلائی کے کاموں کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ انہیں دن رات اپنی دنیا کمانے کی فکر ہے۔ وہ اپنے وقت کاُ کل سرمایہ اپنی ساری توانائیوں سمیت خود ساختہ جھوٹے معیارات کو برقرار رکھنے اور زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے لیے کھپا رہے ہیں۔ اس آیت کے مضمون کی روشنی میں ہر شخص کو اپنی مصروفیات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس کی شبانہ روز تگ و دو اور بھاگ دوڑ کا کتنا حصہ دین کے لیے ہے اور کتنا حصہ دنیا کے لیے۔ اگر کسی شخص کی تمام تر کوشش اور ساری محنت ہے ہی دنیا کے لیے ‘ اس کا نصب العین بھی دنیا ہے اور اس نے منصوبہ بندی بھی صرف اسی کے لیے کر رکھی ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ آخرت کی تیاری کرنے کے لیے فرصت کے لمحات اسے کب اور کیسے میسر آئیں گے ؟