Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Bayan ul Quran Tafsir: Al-Ma'arij Ayah 36

70:36
فمال الذين كفروا قبلك مهطعين ٣٦
فَمَالِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ ٣٦
فَمَالِﳌ
ٱلَّذِينَﳍ
كَفَرُواْﳎ
قِبَلَكَﳏ
مُهۡطِعِينَﳐ
٣٦ﳑ
So what is the matter with the disbelievers that they rush ˹head-long˺ towards you ˹O Prophet˺,
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 70:33 to 70:36

آیت 33{ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَآئِمُوْنَ۔ } ”اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔“ دراصل گواہی بھی ایک امانت ہے اور جو شخص غلط گواہی دیتا ہے یا گواہی کو چھپا لیتا ہے وہ امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِط } آیت 140 ”اور کان کھول کر سن لو اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اس نے چھپالیا ؟“ علمائے یہود کے پاس نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کے بارے میں اللہ کی طرف سے گواہی تھی ‘ انہوں نے اس گواہی کو چھپا کر اللہ کی امانت میں خیانت کی۔ سورة البقرۃ کی اس آیت میں اسی گواہی کو چھپانے کا ذکر ہے۔