Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Baqarah 2:137

2:137
فان امنوا بمثل ما امنتم به فقد اهتدوا وان تولوا فانما هم في شقاق فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم ١٣٧
فَإِنْ ءَامَنُوا۟ بِمِثْلِ مَآ ءَامَنتُم بِهِۦ فَقَدِ ٱهْتَدَوا۟ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا هُمْ فِى شِقَاقٍۢ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ ٱللَّهُ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ١٣٧
فَإِنۡ
ءَامَنُواْ
بِمِثۡلِ
مَآ
ءَامَنتُم
بِهِۦ
فَقَدِ
ٱهۡتَدَواْۖ
وَّإِن
تَوَلَّوۡاْ
فَإِنَّمَا
هُمۡ
فِي
شِقَاقٖۖ
فَسَيَكۡفِيكَهُمُ
ٱللَّهُۚ
وَهُوَ
ٱلسَّمِيعُ
ٱلۡعَلِيمُ
١٣٧
So if they believe in what you believe, then they will indeed be ˹rightly˺ guided. But if they turn away, they are simply opposed ˹to the truth˺. But Allah will spare you their evil. For He is the All-Hearing, All-Knowing.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

آیت 137 فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ یعنی وہ ضد اور ہٹ دھرمی کی روش ترک کردیں اور ٹھیک ٹھیک وہی دین اور وہی راستہ اختیار کریں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے تمہیں دیا گیا ہے۔ٌ فَقَدِ اہْتَدَوْا ج وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ہُمْ فِیْ شِقَاقٍ ج۔ اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہٹ دھرمی اور ضدم ضدا میں مبتلا ہوچکے ہیں اور دشمنی اور مخالفت پر اڑے ہوئے ہیں۔ َ ّ فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللّٰہُ ج آپ فکر نہ کریں ‘ آپ ﷺ مداہنت compromise کی کسی دعوت کی طرف توجہ ہی نہ کریں ‘ کچھ دو کچھ لو کا معاملہ آپ بالکل بھی نہ سوچیں۔ آپ ان کی مخالفتوں سے مرعوب نہ ہوں اور ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر نہ لیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی حمایت کے لیے ان سب کے مقابلے میں کافی رہے گا۔وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ایسا نہیں ہے کہ اسے معلوم نہ ہو کہ آپ ﷺ اس وقت کن حالات میں ہیں ‘ کیسی مشکلات میں ہیں ‘ کس طرح کی نازک صورت حال ہے جو دن بدن شکل بدل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے حالات میں آپ کا محافظ اور مددگار ہے۔[ حضرت عثمان رض شہادت کے وقت قرآن حکیم کے جس نسخے پر تلاوت فرما رہے تھے اس میں ان الفاظ پر خون کا دھبہّ آج بھی موجود ہے۔ باغیوں نے آپ رض ‘ کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کیا تھا۔ آپ رض کی زوجہ محترمہ نائلہ رض نے آپ کو بچانا چاہا تو ان کی انگلیاں کٹ گئیں اور خون ان الفاظ پر پڑا۔ ]