Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tafsir: Al-A’ráf 7:104

7:104
وقال موسى يا فرعون اني رسول من رب العالمين ١٠٤
وَقَالَ مُوسَىٰ يَـٰفِرْعَوْنُ إِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٠٤
وَقَالَ
مُوسَىٰ
يَٰفِرۡعَوۡنُ
إِنِّي
رَسُولٞ
مِّن
رَّبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
١٠٤
Dijo Moisés: “¡Oh, Faraón! Soy un Mensajero del Señor del universo.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 7:104 hasta 7:106
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» اور «علی» یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں۔ جیسے «رَمَیْتَ بِالْقَوْسِ» اور «رَمَیْتَ علی الْقَوْسِ» وغیرہ۔

اور بعض مفسرین کہتے ہیں: «حَقِیْقٌ» کے معنی «حَرِیْصٌ» کے ہیں۔

یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنن کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں، میں اپنی صداقت پر الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے۔ یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا: میں تجھے سچا نہیں سمجھتا، نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔

صفحہ نمبر3010