Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-An’ám Ayah 72

6:72
وان اقيموا الصلاة واتقوه وهو الذي اليه تحشرون ٧٢
وَأَنْ أَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّقُوهُ ۚ وَهُوَ ٱلَّذِىٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ٧٢
وَأَنۡﲩ
أَقِيمُواْﲪ
ٱلصَّلَوٰةَﲫ
وَٱتَّقُوهُۚﲬﲭ
وَهُوَﲮ
ٱلَّذِيٓﲯ
إِلَيۡهِﲰ
تُحۡشَرُونَﲱ
٧٢ﲲ
hacer la oración y tener temor de Él, porque es ante Él que seremos resucitados”.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 6:71 hasta 6:73

جو لوگ خداکے سوا دوسرے سہاروں پر اپنی زندگی قائم کریں ان کی مثال اس مسافر کی سی ہوتی ہے جو بے نشان صحرا ميں بھٹک رہاہو۔ صحرا میں بھٹکنے والا مسافر فوراً جان لیتاہے کہ اس نے اپنا راستہ کھو دیا ہے۔ راستہ دکھائی دیتے ہی وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتاہے۔ مگر جو لوگ خدا کے بجائے دوسرے سہاروں پر جیتے ہیں ان کو اپنے بے راہ ہونے کی خبر نہیں ہوتی۔ ان کے آس پاس پکارنے والے پکارتے ہیں کہ اصل راستہ یہ ہے، ادھر آجاؤ، مگر وہ اس قسم کی آوازوں پر دھیان نہیں دیتے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے معاملہ میں آدمی کی عقل کھلی ہوئی ہوتی ہے، صحیح راستہ کو دیکھنے میںاس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیںہوتی۔ جب کہ دوسری صورت میں آدمی کي عقل شیطان کے زیر اثر آجاتی ہے۔ اس کی سوچ اپنے فطری ڈھنگ پر کام نہیںکرتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سن کر بھی نہیں سنتا اور دیکھ کر بھی نہیں دیکھتا۔

خداکے سوا دوسری چیزوں کا طالب بننا ایسی چیزوں کا طالب بننا ہے جو اس دنیا میں فائدہ نقصان کی طاقت نہیں رکھتیں۔ زمین وآسمان اپنے پورے نظام کے ساتھ انکار کررہے ہیں کہ یہاں ایک ہستی کے سوا کسی اور ہستی کو کوئی طاقت حاصل ہو۔ اسی طرح جن دنیوی رونقوں کو آدمی اپنا مقصود بناتا ہے اور ان کو پانے کی کوشش میں سچائي اورانصاف کے تمام تقاضوں کو روند ڈالتا ہے، وہ بھی سر اسر باطل ہے۔ کیوں کہ انسانی زندگی اگر اسی ظالمانہ حالت پر تمام ہوجائے تو یہ دنیا بالکل بے معنی قرار پاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا خود غرض اور انانیت پسند لوگوں کی تماشا گاہ ہے۔ حالانکہ کائنات کا نظام جس باکمال خدا کی تجلیاں دکھا رہا ہے اس سے انتہائی بعید ہے کہ وہ اس طرح کی کوئی بے مقصد تماشا گاہ کھڑی کرے۔

دنیا کی موجودہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ خدا کسی بھی دن اپنا نیا حکم جاری کرکے اس نظام کو توڑ دے گا۔ اس کے بعد انسان کی موجودہ آزادی ختم ہوجائے گی اور خدا کا اقتدار انسانوں پر بھی اسی طرح قائم ہوجائے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات پر قائم ہے۔ اس وقت کامیاب وہ ہوں گے جنھوںنے امتحان کے زمانہ میں اپنے کو خدا کے حوالے کیا تھا، جو کسی دباؤ کے بغیر اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے آگے ہمہ تن جھک جانے والے تھے۔