Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-An'am 6:60

6:60
وهو الذي يتوفاكم بالليل ويعلم ما جرحتم بالنهار ثم يبعثكم فيه ليقضى اجل مسمى ثم اليه مرجعكم ثم ينبيكم بما كنتم تعملون ٦٠
وَهُوَ ٱلَّذِى يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰٓ أَجَلٌۭ مُّسَمًّۭى ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٦٠
وَهُوَﱁ
ٱلَّذِيﱂ
يَتَوَفَّىٰكُمﱃ
بِٱلَّيۡلِﱄ
وَيَعۡلَمُﱅ
مَاﱆ
جَرَحۡتُمﱇ
بِٱلنَّهَارِﱈ
ثُمَّﱉ
يَبۡعَثُكُمۡﱊ
فِيهِﱋ
لِيُقۡضَىٰٓﱌ
أَجَلٞﱍ
مُّسَمّٗىۖﱎﱏ
ثُمَّﱐ
إِلَيۡهِﱑ
مَرۡجِعُكُمۡﱒ
ثُمَّﱓ
يُنَبِّئُكُمﱔ
بِمَاﱕ
كُنتُمۡﱖ
تَعۡمَلُونَﱗ
٦٠ﱘ
He is the One Who calls back your souls by night and knows what you do by day, then revives you daily to complete your appointed term. To Him is your ˹ultimate˺ return, then He will inform you of what you used to do.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

آیت 60 وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰٹکُمْ بالَّیْلِ سورۂ آل عمران کی آیت 55 کی تشریح کے سلسلے میں یُوَفِّیْ ‘ یَتَوَفّٰی اور مُتَوَفِّیوغیرہ الفاظ کی وضاحت ہوچکی ہے ‘ جس سے قادیانیوں کی ساری خباثت کا توڑ ہوجاتا ہے۔ ذرا غور کیجئے ! یہاں وفات دینے کے کیا معنی ہیں ؟ کیا نیند کے دوران انسان مرجاتا ہے ؟ نہیں ‘ جان تو بدن میں رہتی ہے ‘ البتہ شعور نہیں رہتا۔ اس سلسلے میں تین چیزیں الگ الگ ہیں ‘ جسم ‘ جان اور شعور۔ فارسی کا ایک بڑا خوبصورت شعر ہے ؂جاں نہاں در جسم ‘ اُو در جاں نہاں اے نہاں ‘ اندر نہاں ‘ اے جان جاں !جان جسم کے اندر پنہاں ہے اور جان میں وہ پنہاں ہے۔ اے کہ جو پنہاں شے کے اندر پنہاں ہے ‘ تو ہی تو جان جاں ہے !اس شعر میں او وہ سے مراد کچھ اور ہے ‘ جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ اس وقت صرف یہ سمجھ لیجیے کہ ان تین چیزوں یعنی جسم ‘ جان اور شعور میں سے نیند میں صرف شعور جاتا ہے جبکہ موت میں شعور بھی جاتا ہے اور جان بھی چلی جاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تَوَفِّی مکمل صورت میں وقوع پذیر ہوا تھا ‘ یعنی جسم ‘ جان اور شعور تینوں چیزوں کے ساتھ۔ عام آدمی کی موت کی صورت میں یہ تَوَفِّی ادھورا ہوتا ہے ‘ یعنی جسم یہیں رہ جاتا ہے ‘ جان اور شعور چلے جاتے ہیں ‘ جب کہ نیند کی حالت میں صرف شعور جاتا ہے۔وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّہَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّی ج۔یعنی روزانہ ہم ایک طرح سے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ‘ کیونکہ نیند آدھی موت ہوتی ہے۔ جیسے صبح کے وقت اٹھنے کی مسنون دعا میں مذکور ہے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَیْہِ النُّشُوْرِ کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے دوبارہ زندہ کیا ‘ اس کے بعد کہ مجھ پر موت وارد کردی تھی اور اسی کی طرف جی اٹھنا ہے۔ اس دعا سے ایک بڑاعجیب نکتہ ذہن میں آتا ہے۔ وہ یہ کہ ہر روز صبح اٹھتے ہی جس شخص کی زبان پر یہ الفاظ آتے ہوں : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَیْہِ النُّشُوْرِ قیامت کے دن جب وہ قبر سے اٹھے گا تو دنیا میں اپنی عادت کے سبب اس کی زبان پر خود بخود یہی ترانہ جاری ہوجائے گا ‘ جو اس وقت لفظی اعتبار سے صد فی صد درست ہوگا ‘ کیونکہ وہ اٹھنا حقیقی موت کے بعد کا اٹھنا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ زندگی میں روزانہ اس کی ریہرسل کی جائے تاکہ یہ عادت پختہ ہوجائے۔