Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-An'am Ayah 57

6:57
قل اني على بينة من ربي وكذبتم به ما عندي ما تستعجلون به ان الحكم الا لله يقص الحق وهو خير الفاصلين ٥٧
قُلْ إِنِّى عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَكَذَّبْتُم بِهِۦ ۚ مَا عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِۦٓ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ ٱلْحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْفَـٰصِلِينَ ٥٧
قُلۡﲍ
إِنِّيﲎ
عَلَىٰﲏ
بَيِّنَةٖﲐ
مِّنﲑ
رَّبِّيﲒ
وَكَذَّبۡتُمﲓ
بِهِۦۚﲔﲕ
مَاﲖ
عِندِيﲗ
مَاﲘ
تَسۡتَعۡجِلُونَﲙ
بِهِۦٓۚﲚﲛ
إِنِﲜ
ٱلۡحُكۡمُﲝ
إِلَّاﲞ
لِلَّهِۖﲟﲠ
يَقُصُّﲡ
ٱلۡحَقَّۖﲢﲣ
وَهُوَﲤ
خَيۡرُﲥ
ٱلۡفَٰصِلِينَﲦ
٥٧ﲧ
Say, ˹O Prophet,˺ “Indeed, I stand on a clear proof from my Lord—yet you have denied it. That ˹torment˺ you seek to hasten is not within my power. It is only Allah Who decides ˹its time˺. He declares the truth. And He is the Best of Judges.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 6:56 to 6:59

خدا کے سوا جس چیز کو آدمی معبود کا درجہ دیتا ہے وہ اس کی ایک خواہش ہوتی ہے جس کو وہ واقعہ فرض کرلیتا ہے۔ کبھی اپنی بے عملی کے انجام سے بچنے کے لیے وہ کسی کو خدا کا مقرب یقین کر لیتا ہے جو خدا کے یہاں اس کا مدد گار اور سفارشی بن جائے۔ کبھی وہ ایک شخصیت کے حق میں طلسماتی عظمت کا تصو رقائم کرلیتا ہے تاکہ اپنے کو اس سے منسوب کرکے اپنے چھوٹے پن کی تلافي کرسکے۔ کبھی اپني سہل پسندی کی وجہ سے وہ ایسا خدا گھڑ لیتاہے جو سستی قیمت پر مل جائے اور معمولی معمولی چیزوں سے جس کو خوش کیاجاسکے۔

مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض مفروضات ہیں اور مفروضات کسی کو حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے۔ تاہم آدمی اپنی سستی طلب میں کبھی اتنا اندھا ہوجاتا ہے کہ وہ خود ان لوگوں کو چیلنج کرنے لگتا ہے جنھوںنے کائنات کے حقیقی مالک کی طرف اپنے کو کھڑا کررکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ساری بڑائی اگر اسی ایک خدا کے لیے ہے جس کے تم نمائندہ ہو تو ہم جیسے نافرمانوں پر اس کا عتاب نازل کرکے دکھاؤ۔ یہ جرأت ان کو اس لیے ہوتی ہے کہ وہ دیکھتے ہیںکہ توحید کے داعیوں کے مقابلہ میں ان کے اپنے گرد زیادہ دنیوی رونقیں جمع ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مادی چیزیں ان کو دنیا داری اور مصلحت پرستی کی بنا پر ملی ہیں اور توحید کے داعی جو ان چیزوں سے خالی ہیں وہ اس لیے خالی ہیں کہ ان کی آخرت پسندی نے ان کو مصلحت پرستی کی سطح پر آنے سے روکے رکھا۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنيا ہے۔ اس لیے یہاں دیکھنے کي چیز یہ نہیں ہے کہ آدمی کے مادی حالات کیا ہیں۔ بلکہ یہ کہ وہ حقیقی دلیل پر کھڑا ہوا ہے یا مفروضات اور خوش گمانیوں پر۔ بالآخر وہی شخص کامیاب ہوگا جوواقعی دلیل پر کھڑا ہو۔ جو لوگ مفروضات پر کھڑے ہوئے ہیں ان کا آخری انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی اس دنیا میں بالکل بے سہارا ہو کر رہ جائیں۔ جس دنیا کا سارا نظام محکم قوانین پر چل رہا ہو اس کا آخری انجام خوش خیالیوں کے تابع کیوں کر ہوجائے گا۔