Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Qadr 97:1

97:1
انا انزلناه في ليلة القدر ١
إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ ١
إِنَّآ
أَنزَلۡنَٰهُ
فِي
لَيۡلَةِ
ٱلۡقَدۡرِ
١
Sesungguhnya Kami telah menurunkan (Al-Quran) ini pada Malam Lailatul-Qadar,
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

انا انزلنہ ............................ القدر (1:97) ” ہم نے اسے لیلة القدر میں اتارا “۔ لیلتہ القدر کے معنی تقدیر اور تدبیر بھی ہوسکتے ہیں ، اور قابل قدر اور بلند مرتبہ کے بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ دونوں معانی اس عظیم الشان کائناتی واقعہ کے ساتھ مناسب ہیں ، یہ واقعہ کہ اس رات میں قرآن کریم نازل ہوا ، یہ آخری رسالت نبی کریم ﷺ کے سپرد ہوئی اور آپ نے دعوت کا کام شروع کیا۔ میں سمجھتا ہوں اس کائنات میں اس سے بڑا کوئی واقعہ نہیں ہے۔ اور انسانوں کی زندگی میں اس سے پر معنی اور زیادہ اہمیت اور قدر و قیمت والا کوئی واقعہ بھی نہیں ہے۔ یہ رات ایک ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ مراد ہزار مہینوں کی تحدید نہیں ہے ، مراد کہ ہزارہا راتوں سے یہ رات زیادہ قیمتی ہے۔ الف شہر سے مراد زیادہ راتیں ہیں۔ مطلب ہے ہزاروں لاکھوں راتوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ یوں کہ ہزاروں لاکھوں کروڑوں راتیں انسانی زندگی کو اس قدر متاثر نہیں کرسکیں۔ جس قدر اس رات نے انسانی زندگی کو متاثر کیا۔ اس رات نے انسانی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔

لیلة القدر .................... الف شھر (3:97) ” شب قدر ایک ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے “۔