Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Bayan ul Quran Tafsir: Al-Balad Ayah 10

90:10
وهديناه النجدين ١٠
وَهَدَيْنَـٰهُ ٱلنَّجْدَيْنِ ١٠
وَهَدَيۡنَٰهُﲛ
ٱلنَّجۡدَيۡنِﲜ
١٠ﲝ
and shown them the two ways ˹of right and wrong˺?
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 90:10 to 90:12

آیت 10{ وَہَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ۔ } ”اور ہم نے اس کو راہ دکھلا دی دو گھاٹیوں کی۔“ عام مفسرین کے نزدیک دو گھاٹیوں سے مراد نیکی اور بدی کے دو راستے ہیں۔ البتہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے ماں کی دو چھاتیاں مراد ہیں۔ نجد کے لغوی معنی ابھری ہوئی چیز کے ہیں۔ بلند سطح پر جو راستہ ہو اس کو بھی نجد کہتے ہیں۔ چناچہ ”النَّجْدین“ کے معنی ”دو بلند واضح راستے“ بھی ہوسکتے ہیں اور ”دواُبھار“ بھی۔ اور مجھے موخر الذکر رائے زیادہ پسند ہے۔ انسان کی زبان ‘ اس کے دو ہونٹوں اور پھر ماں کی چھاتیوں کے ذکر کے حوالے سے دراصل یہاں انسان کی اس جبلی اور پیدائشی ہدایت کا ذکر مقصود ہے جس کے بارے میں ہم سورة الاعلیٰ کی آیت { وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَھَدٰی۔ } میں پڑھ آئے ہیں۔ ظاہر ہے ایک بچہ اپنی پیدائش کے فوراً بعد نہ صرف ماں کے دودھ کی تلاش شروع کردیتا ہے بلکہ جونہی اس کی رسائی ماں کی چھاتیوں تک ہوتی ہے تو وہ دودھ چوسنے بھی لگتا ہے۔ اس نومولود کو آخر اپنی غذا کی تلاش کا یہ شعور کس نے دیا ہے ؟ اور اس مرحلے پر زبان اور ہونٹوں کے اس خاص استعمال کا طریقہ اسے کس نے سکھایا ہے ؟ ظاہر ہے یہ شعور ‘ یہ آگہی اور یہ ہدایت اس کی اس فطرت اور جبلت کا حصہ ہے جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے اور اس اعتبار سے بچے کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔