Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Nuh 71:7

71:7
واني كلما دعوتهم لتغفر لهم جعلوا اصابعهم في اذانهم واستغشوا ثيابهم واصروا واستكبروا استكبارا ٧
وَإِنِّى كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوٓا۟ أَصَـٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَٱسْتَغْشَوْا۟ ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ ٱسْتِكْبَارًۭا ٧
وَإِنِّيﲧ
كُلَّمَاﲨ
دَعَوۡتُهُمۡﲩ
لِتَغۡفِرَﲪ
لَهُمۡﲫ
جَعَلُوٓاْﲬ
أَصَٰبِعَهُمۡﲭ
فِيٓﲮ
ءَاذَانِهِمۡﲯ
وَٱسۡتَغۡشَوۡاْﲰ
ثِيَابَهُمۡﲱ
وَأَصَرُّواْﲲ
وَٱسۡتَكۡبَرُواْﲳ
ٱسۡتِكۡبَارٗاﲴ
٧ﲵ
And whenever I invite them to be forgiven by You, they press their fingers into their ears, cover themselves with their clothes, persist ˹in denial˺, and act very arrogantly.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 71:7 to 71:8

آیت 7{ وَاِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَلَہُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَہُمْ فِیْٓ اٰذَانِہِمْ } ”اور میں نے جب بھی انہیں پکارا تاکہ تو ان کی مغفرت فرما دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں“ { وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَہُمْ } ”اور اپنے کپڑے بھی اپنے اوپر لپیٹ لیے“ { وَاَصَرُّوْا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا۔ } ”اور وہ ضد پر اَڑ گئے ‘ اور انہوں نے استکبار کیا بہت بڑا استکبار۔“ اَصَرَّ یُصِرُّ اِصْرَارًاکے معنی اپنی روش پر اَڑ جانے کے ہیں۔ کفر کی روش پر اَڑ جانے اور جم جانے کے علاوہ ان کا رویہ اپنے رسول علیہ السلام کے ساتھ از حد متکبرانہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم کیسے آپ کو اپنا پیشوا تسلیم کرلیں جبکہ نچلے درجے کے رذیل قسم کے لوگ آپ کے متبعین ہیں !۔۔۔۔ - اردو میں لفظ اصرار اسی معنی میں مستعمل ہے۔