Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
5:116
واذ قال الله يا عيسى ابن مريم اانت قلت للناس اتخذوني وامي الاهين من دون الله قال سبحانك ما يكون لي ان اقول ما ليس لي بحق ان كنت قلته فقد علمته تعلم ما في نفسي ولا اعلم ما في نفسك انك انت علام الغيوب ١١٦
وَإِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَـٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ءَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِى وَأُمِّىَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَـٰنَكَ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِى بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُۥ فَقَدْ عَلِمْتَهُۥ ۚ تَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِى وَلَآ أَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّـٰمُ ٱلْغُيُوبِ ١١٦
وَإِذۡ
قَالَ
ٱللَّهُ
يَٰعِيسَى
ٱبۡنَ
مَرۡيَمَ
ءَأَنتَ
قُلۡتَ
لِلنَّاسِ
ٱتَّخِذُونِي
وَأُمِّيَ
إِلَٰهَيۡنِ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِۖ
قَالَ
سُبۡحَٰنَكَ
مَا
يَكُونُ
لِيٓ
أَنۡ
أَقُولَ
مَا
لَيۡسَ
لِي
بِحَقٍّۚ
إِن
كُنتُ
قُلۡتُهُۥ
فَقَدۡ
عَلِمۡتَهُۥۚ
تَعۡلَمُ
مَا
فِي
نَفۡسِي
وَلَآ
أَعۡلَمُ
مَا
فِي
نَفۡسِكَۚ
إِنَّكَ
أَنتَ
عَلَّٰمُ
ٱلۡغُيُوبِ
١١٦
Allah, "Ey Meryem oğlu İsa! Sen mi insanlara Beni ve annemi Allah'tan başka iki tanrı olarak benimseyin dedin?" demişti de, "Haşa, hak olmayan sözü söylemek bana yaraşmaz; eğer söylemişsem, şüphesiz Sen onu bilirsin; Sen, benim içimde olanı bilirsin; ben Senin içinde olanı bilmem; doğrusu görülmeyeni bilen ancak Sensin" demişti, "Ben onlara sadece 'Rabbim ve Rabbiniz olan Allah'a kulluk edin' diye bana emrettiğini söyledim. Aralarında bulunduğum müddetce onlar hakkında şahiddim, beni aralarından aldığında onları Sen gözlüyordun. Sen her şeye şahidsin."
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
5:116 ile 5:120 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

قیامت جب آئے گی تو حقیقتیں اس طرح کھل جائیں گی کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے یہ جان لے گا کہ سچ کیا ہے اور غلط کیا۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے کہ ساری طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ خالق اور مالک، معبود اور مطلوب ہونے میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اس کے سوا کسی کو نہ کوئی طاقت حاصل ہے اور نہ اس کے سوا کوئی اس قابل ہے کہ اس کی عبادت واطاعت کی جائے۔ ایسی حالت میں جب خدا اپنے پیغمبروں سے پوچھے گا کہ میںنے تم کو کیا پیغام دے کر دنیا میں بھیجا تھا تو یہ ایک ایسی بات کا پوچھنا ہوگا جو پہلے ہی لوگوں کے لیے معلوم شدہ بن چکی ہو گی۔ اس سوال کا جواب اس وقت اتنا کھلا ہوا ہوگا کہ کسی کے بولے بغیر قیامت کا پورا ماحول اس کا جواب پکار رہا ہوگا۔ یہ سوال وجواب محض لوگوں کی رسوائی میںاضافہ کرنے کے لیے ہوگا۔ وہ اس لیے ہوگا کہ پیغمبروں کے سامنے کھڑاکرکے لوگوں پر واضح کیا جائے کہ پیغمبروں کے نام پر جو دین تم نے بنا رکھا تھا وہ ان کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔

یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی ہے۔ یہاں آدمی خدا اور رسول کی طرف ایسا دین منسوب کرکے بھی پھل پھول سکتا ہے جس کا خدا ورسول سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہاں فرضی امیدوں اور جھوٹی آرزوؤں پر بھی جنت کو اپنا حق ثابت کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی قیادت کے ہنگامے کھڑے کرے اور یہ ثابت کرے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہی عین خدا کا دین ہے۔ مگر قیامت میں اس قسم کی کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔ قیامت میں جو چیز کام آئے گی وہ صرف یہ کہ آدمی خدا کی نظر میں سچا ثابت ہو۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان کی دعوے دار بنتی ہیں یا نہیں۔ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے دعوائے ایمان کو سچا ثابت کرتی ہیں یا نہیں۔