Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: At-Tur Ayah 37

52:37
ام عندهم خزاين ربك ام هم المصيطرون ٣٧
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ ٱلْمُصَۣيْطِرُونَ ٣٧
أَمۡﱬ
عِندَهُمۡﱭ
خَزَآئِنُﱮ
رَبِّكَﱯ
أَمۡﱰ
هُمُﱱ
ٱلۡمُصَۜيۡطِرُونَﱲ
٣٧ﱳ
Or do they possess the treasuries of your Lord, or are they in control ˹of everything˺?
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 52:35 to 52:39

خدا کی طرف سے جن صداقتوں کا اعلان ہوا ہے وہ سب پوری طرح معقول ہیں۔ آدمی اگر دھیان دے تو وہ بہ آسانی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں ان کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ آخرت کے بارے میں لوگوں کی بے یقینی ہے۔ لوگوں کو زندہ یقین نہیں کہ آخرت میں ان سے حساب لیا جائے گا۔ اس لیے وہ ان امور میں سنجیدہ نہیں۔ اور اسی لیے وہ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر جزائے اعمال کا یقین ہو تو آدمی فوراً ان باتوں کو سمجھ جائے جن کو سمجھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہورہا ہے۔