وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۱۸:۵۲
فاكهين بما اتاهم ربهم ووقاهم ربهم عذاب الجحيم ١٨
فَـٰكِهِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمْ رَبُّهُمْ وَوَقَىٰهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ ٱلْجَحِيمِ ١٨
فَٰكِهِينَ
بِمَآ
ءَاتَىٰهُمۡ
رَبُّهُمۡ
وَوَقَىٰهُمۡ
رَبُّهُمۡ
عَذَابَ
ٱلۡجَحِيمِ
١٨
و از آنچه پروردگارشان به آن‌ها داده مسرورند، و پروردگارشان آن‌ها را از عذاب جهنم محفوظ داشته است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 52:17 تا 52:20

انسان کا سب سے بڑا جرم حق کو جھٹلانا ہے۔ اس سے بقیہ تمام جرائم پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف ہے، تمام دوسری نیکیاں اسی سے بطور نتیجہ ظاہر ہوتی ہیں۔

حق کو ماننے سے آدمی کی بڑائی ٹوٹتی ہے۔ یہ کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس پر وہی لوگ پورے اترتے ہیں جن کو اللہ کے ڈرنے آخری حد تک سنجیدہ بنا دیا ہو۔ جو لوگ اس سب سے بڑی نیکی کا ثبوت دیں وہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے جنت کی ابدی نعمتوں کے دروازے کھول دیے جائیں۔