Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Qaf 50:11

50:11
رزقا للعباد واحيينا به بلدة ميتا كذالك الخروج ١١
رِّزْقًۭا لِّلْعِبَادِ ۖ وَأَحْيَيْنَا بِهِۦ بَلْدَةًۭ مَّيْتًۭا ۚ كَذَٰلِكَ ٱلْخُرُوجُ ١١
رِّزۡقٗا
لِّلۡعِبَادِۖ
وَأَحۡيَيۡنَا
بِهِۦ
بَلۡدَةٗ
مَّيۡتٗاۚ
كَذَٰلِكَ
ٱلۡخُرُوجُ
١١
Como sustento para os servos; e fazemos reviver, com ela, (a água) uma terra árida. Assim será a ressurreição!
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith

رزقا للعباد (50 : 11) ” یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے گا “۔ اس رزق کے اسباب اللہ کہاں سے چلا کر لاتا ہے۔ پھر نباتات اگاتا ہے ، پھر ثمرات لگاتا ہے ، یہ سب کچھ بندوں کے لئے۔ اور اللہ ہی صحیح آقا ہے اور اس کا پورا پورا شکر ادا کرنے کی قدرت ہی یہ بندے نہیں رکھتے۔

اور اب یہ کہ یہ پوری کائنات اس ہدف کی طرف بڑھ رہی ہے۔

واحیینا بہ بلدۃ میتتا کذلک الخروج (50 : 11) ” اور اس پانی سے ہم ایک مردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں (مرے ہوئے انسانوں کا زمین سے نکلنا بھی اسی طرح ہوگا “۔ یہ عمل تمہارے ماحول میں رات دن دہرایا جا رہا ہے ، تم اس کے عادی ہوگئے ہو۔ دیکھتے ہو لیکن یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے اور پھر بھی تم اعتراض کرتے ہو۔ اگر تم غور کرتے تو تمہیں اپنا اعتراض عجیب لگتا۔ جس طرح موجودہ زمین پر لوگ پیدا ہورہے ہیں۔ اسی سہولت سے دوبارہ اٹھا لیے جائیں گے۔ قرآن کا انداز کیا ہی شاندار ہے۔ پہلے دلائل دے کر بعد دعویٰ ، کہ کائنات سے مختلف قسم کے دلائل اور موثرات کی ایک طویل فہرست دے کر آخر میں کہتا ہے کہ ” یوں “ ۔ اور اس انداز سے انسان بہت متاثر ہوتا ہے۔