Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
38:79
قال رب فانظرني الى يوم يبعثون ٧٩
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ٧٩
قَالَ
رَبِّ
فَاَنْظِرْنِیْۤ
اِلٰی
یَوْمِ
یُبْعَثُوْنَ
۟
(Iblis) berkata, "Ya Tuhanku, tangguhkanlah aku sampai pada hari mereka dibangkitkan."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 38:79 hingga 38:85

موجودہ امتحان کی دنیا میں شیطان کو پورا موقع دیا گیا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔مگر شیطان اسی وقت تک بہکا سکتاہے جب تک حقیقت غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ قیامت جب غیب کا پردہ پھاڑے گی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد نہ کوئی بہکانے والا باقی رہے گا اور نہ کوئی بہکنے والا۔

مخلص کا مطلب ہے کھوٹ سے خالی ہونا۔ عبد مخلص وہ ہے جو نفسیاتی بیماریوں سے پاک ہو۔ شیطان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو کوئی عملی زور حاصل نہیں۔ وہ ہمیشہ تزئین کے ذریعہ انسانوں کو بہکاتا ہے۔ یعنی باطل کو حق کے روپ میں دکھانا۔ بے اصل باتوں کو خوبصورت الفاظ میں پیش کرنا۔ سیدھی بات میں شوشہ نکال کر لوگوں کو اس کی طرف سے مشتبہ کردینا۔ تاہم شیطان کی اس تزئین سے وہی لوگ فریب کھاتے ہیں جو اپنے اندر نفسیاتی کھوٹ ليے ہوئے ہوں۔ اور جو لوگ اپنی نفسیات کو اس کی فطری حالت پر باقی رکھیں اور اپنی عقل کو کھلے طورپر استعمال کریں وہ فوراً شیطانی فریب کو پہچان لیتے ہیں۔ وہ کبھی اس کی تزئین سے گمراہ نہیں ہوتے۔